ایران جنگ کا اثر، عالمی منڈی میں تیل 108 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا
یہ 19 مئی کے بعد برینٹ خام تیل کی بلند ترین اختتامی قیمت ہے، جبکہ تقریباً 6 ہفتوں کے دوران ایک روز میں ہونے والا یہ سب سے بڑا اضافہ بھی قرار دیا جارہا ہے۔
فائل فوٹو
ایران جنگ کے باعث عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، برینٹ خام تیل کی قیمت 108 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی خام تیل کی قیمت 103 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق سرمایہ کار خطے میں جاری جنگ کے باعث تیل کی عالمی سپلائی میں ممکنہ طویل رکاوٹ کے خدشات کا شکار ہیں، جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی دیکھی جارہی ہے۔
کاروباری سرگرمیوں کے دوران برینٹ خام تیل کی قیمت میں 7.1 فیصد تک اضافہ ہوا اور یہ 108 ڈالر فی بیرل کی سطح پر پہنچ گئی۔ بعد ازاں برینٹ کی قیمت 107.63 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئی، جو گزشتہ روز کے مقابلے میں 6.34 فیصد زیادہ ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ 19 مئی کے بعد برینٹ خام تیل کی بلند ترین اختتامی قیمت ہے، جبکہ تقریباً 6 ہفتوں کے دوران ایک روز میں ہونے والا یہ سب سے بڑا اضافہ بھی قرار دیا جارہا ہے۔
دوسری جانب امریکی خام تیل ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت میں بھی 7.3 فیصد تک اضافہ ہوا اور یہ مئی کے بعد پہلی مرتبہ 103 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی۔ کاروبار کے اختتام پر ڈبلیو ٹی آئی 102.48 ڈالر فی بیرل پر بند ہوا، جو یومیہ بنیاد پر 6.69 فیصد اضافہ ہے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر میں بڑھتی کشیدگی نے عالمی توانائی کی سپلائی سے متعلق خدشات میں اضافہ کردیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان جاری فوجی کارروائیوں اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گئی ہیں۔