سعودی عرب کی مرکزی پائپ لائن کو 8 مقامات پر نقصان پہنچنے کے دعوے

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی سیٹلائٹ تصاویر میں پائپ لائن کے مختلف مقامات کے قریب دھوئیں کے بڑے بادل دکھائی دینے کا دعویٰ

September 11, 2026 · اہم خبریں, بام دنیا
فوٹو سوشل میڈیا ایکس

فوٹو سوشل میڈیا ایکس

ریاض: سعودی عرب کی مشرقی ساحل سے مغربی ساحل تک خام تیل پہنچانے والی اہم ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کو مبینہ طور پر نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، تاہم سعودی حکام کی جانب سے تاحال اس حملے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔

مصر کے انٹیلی جنس آبزرور @EGYOSINT نے سیٹلائٹ ڈیٹا کی بنیاد پر دعویٰ کیا ہے کہ یمن کے حوثیوں نے سعودی عرب کی اہم ایسٹ ویسٹ کروڈ آئل پائپ لائن کو نشانہ بنایا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ پائپ لائن خلیج کے ساحل پر واقع ابقیق سے بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع ینبع تک خام تیل پہنچاتی ہے۔ سیٹلائٹ ڈیٹا میں پائپ لائن کے راستے پر تقریباً ایک ہی وقت، یعنی 17:56 یو ٹی سی کے قریب، 6 مختلف مقامات پر آگ کے ہاٹ اسپاٹس ریکارڈ کیے گئے۔

NOAA-20 اور MODIS سیٹلائٹ تصاویر میں بعض مقامات پر دھوئیں کے بڑے بادل بھی دکھائی دینے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ اوپن سورس انٹیلی جنس کے مطابق آگ کے یہ آثار ایک محدود علاقے میں کلسٹر کی صورت میں نظر آئے۔

متعلقہ تجزیے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بعض مقامات پر فائر ریڈی ایٹو پاور یعنی FRP کی سطح 70 میگاواٹ سے زیادہ ریکارڈ ہوئی، جسے تجزیہ کار معمول کی فلیئرنگ یا معمولی آگ کے مقابلے میں غیر معمولی قرار دے رہے ہیں۔

غیر مصدقہ اطلاعات میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کو کم از کم 8 مقامات پر نقصان پہنچا ہے۔ تاہم اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔

رپورٹس کے مطابق 10 ستمبر کو مدینہ کے قریب پائپ لائن کے راستے میں متعدد مقامات پر غیر معمولی حرارت اور آگ کے آثار سامنے آئے، جبکہ سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی بعض تصاویر میں پائپ لائن کے قریب سیاہ دھوئیں کے بڑے بادل دکھائی دینے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

یہ اطلاعات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹس کے مطابق 8 ستمبر کو جنوبی سعودی عرب میں توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات میں بعض مقامات پر آگ لگنے اور 73 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔

حالیہ واقعات کے بعد سعودی عرب کی اہم توانائی تنصیبات کی سکیورٹی اور خطے میں تیل کی سپلائی کے حوالے سے خدشات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

سعودی وزارت توانائی، سعودی آرامکو یا دیگر متعلقہ حکام کی جانب سے ایسٹ ویسٹ پائپ لائن پر مبینہ حملے یا 8 مقامات پر نقصان پہنچنے کی تاحال باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

اسی طرح حوثیوں کی جانب سے بھی اس مخصوص پائپ لائن کو نشانہ بنانے کی قابلِ اعتماد سرکاری تصدیق یا ذمہ داری قبول کرنے کا بیان سامنے نہیں آیا۔

پائپ لائن سعودی عرب کے لیے اہم اسٹریٹجک راستہ ہے کیونکہ یہ مشرقی علاقے سے بحیرہ احمر تک خام تیل پہنچانے میں مدد دیتی ہے اور سعودی عرب کو آبنائے ہرمز کے راستے پر انحصار کم کرنے کا متبادل فراہم کرتی ہے۔

اٹھتے سیاہ دھوئیں کی سیٹلائٹ تصاویر شیئر ہونے کے بعد ایکس (ٹویٹر) پر بحث چھڑ گئی ہے۔ کچھ صارفین نے اس موقع پر سخت تبصرے کیے ہیں۔ایک صارف نے لکھا کہ سعودیوں کے پاس دنیا بھر کا پیسہ ہے مگر وہ چند حوثیوں کا مقابلہ نہیں کر پا رہے۔ دوسری طرف ایک صارف نے حوثیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ نبی کریم ﷺ کے شہر کے قریب حملے کر رہے ہیں اور اللہ انہیں ہلاک کرے۔ ایک اور تبصرے میں پاکستان کی صورتحال کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا گیا کہ وہ “سرنڈر” کر رہے ہیں۔

فی الحال سیٹلائٹ ڈیٹا میں آگ کے متعدد آثار اور دھوئیں کے بادل نظر آنے کے دعوے موجود ہیں، لیکن ان کی اصل وجہ، پائپ لائن کو پہنچنے والے نقصان اور حملے میں ملوث فریق کی حتمی تصدیق ہونا باقی ہے۔