لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو بے دخل کرنے سے روک دیا
طلبہ کو میڈیکل کالجز میں داخلہ دیا گیا اور وہ کئی سال سے تعلیم حاصل کر رہے ہیں تو اب انہیں واپس بھیجنے کا فیصلہ کس بنیاد پر کیا گیا
فائل فوٹو
لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب کے میڈیکل کالجز میں زیر تعلیم افغان طلبہ کو فوری طور پر بے دخل کرنے اور ان کے امتحانی پرچے منسوخ کرنے سے روک دیا۔
جسٹس خالد اسحاق نے 30 سے زائد افغان طلبہ کی درخواستوں پر سماعت کی۔ دورانِ سماعت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ بعض افغان طلبہ کے پاس قیام کے لیے مطلوبہ ویزا اور دیگر دستاویزات موجود نہیں۔
عدالت نے استفسار کیا کہ اگر طلبہ کو میڈیکل کالجز میں داخلہ دیا گیا اور وہ کئی سال سے تعلیم حاصل کر رہے ہیں تو اب انہیں واپس بھیجنے کا فیصلہ کس بنیاد پر کیا گیا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ طلبہ کو اپنی میڈیکل تعلیم مکمل کرنے کا موقع دیا جاسکتا ہے۔
پی ایم اینڈ ڈی سی کے وکیل نے معاملے کو ریاستی سیکیورٹی سے جوڑنے کی کوشش کی، تاہم عدالت نے اس مؤقف سے اتفاق نہیں کیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ کوئی بھی میڈیکل کالج افغان طلبہ کو تعلیم سے محروم نہ کرے اور نہ ہی ان کے امتحانی پرچے منسوخ کیے جائیں۔
دوسری جانب پی ایم اینڈ ڈی سی کے مطابق پاکستان میں غیر ملکی طلبہ کے لیے میڈیکل تعلیم حاصل کرنے پر قومیت کی بنیاد پر کوئی پابندی نہیں، تاہم تمام طلبہ کے لیے تعلیمی، رجسٹریشن، دستاویزی اور امیگریشن تقاضے پورے کرنا ضروری ہیں۔
کونسل کے مطابق پاکستان میں 200 سے زائد افغان میڈیکل طلبہ کی نشاندہی ہوئی ہے، جن میں سے 22 طلبہ پی ایم اینڈ ڈی سی کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں۔ ان 22 میں سے 14 اپنی ڈگری مکمل کرچکے ہیں جبکہ 8 آئندہ سال گریجویشن کریں گے، جب کہ دیگر طلبہ کی حیثیت کی تصدیق اور ریگولیٹری جائزہ جاری ہے۔
لاہور ہائیکورٹ نے کیس کی مزید سماعت آئندہ جمعہ تک ملتوی کردی۔