بلال غوری کا جسمانی ریمانڈ مکمل، جیل بھیجنے کا حکم
قومی سائبر کرائم تحقیقاتی ادارے نے بلال غوری کے خلاف پیکا قانون کے تحت مقدمہ درج کر رکھا ہے۔
فائل فوٹو
اسلام آباد میں صحافی بلال غوری کو دو روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے کے بعد عدالت نے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس میں بلال غوری کو جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر جوڈیشل مجسٹریٹ ملک امان کے سامنے پیش کیا گیا۔ سماعت کے دوران قومی سائبر کرائم تحقیقاتی ادارے کی جانب سے ملزم کے مزید پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی گئی۔
تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ بلال غوری سے حاصل ہونے والے آلات کا فرانزک تجزیہ کرانا باقی ہے، جس کے لیے مزید جسمانی ریمانڈ درکار ہے۔
دوسری جانب بلال غوری کے وکیل عمران شفیق نے مزید ریمانڈ کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ تمام آلات پہلے ہی تفتیشی ادارے کے پاس موجود ہیں، اس لیے فرانزک عمل کے لیے ملزم کی تحویل ضروری نہیں۔
وکیل صفائی نے عدالت سے یہ بھی استفسار کرنے کی درخواست کی کہ پہلے دیے گئے دو روزہ جسمانی ریمانڈ کے دوران تفتیش میں کیا پیش رفت ہوئی۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ تفتیشی ادارہ مزید جسمانی ریمانڈ لینے کے لیے کوئی ٹھوس وجہ پیش نہیں کرسکا۔ عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ پہلے دو روزہ جسمانی ریمانڈ کے دوران بھی تفتیش میں کوئی خاطر خواہ پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
بعد ازاں عدالت نے بلال غوری کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔
واضح رہے کہ قومی سائبر کرائم تحقیقاتی ادارے نے صحافی بلال غوری کے خلاف پیکا قانون کے تحت مقدمہ درج کر رکھا ہے۔