نئے صوبوں کا فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی: رانا ثناء اللہ

پنجاب حکومت بلدیاتی انتخابات کرانے کا ارادہ رکھتی ہے جبکہ صوبے سے متعلق بڑے فیصلے پارلیمنٹ کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔

September 12, 2026 · قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

وزیراعظم کے مشیر اور مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ نئے صوبوں کے قیام کا فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی، حکومت اپنی سطح پر اس معاملے پر ریفرنڈم نہیں کرا سکتی۔

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ نئے صوبوں کے قیام سے متعلق بحث جاری ہے، تاہم اس معاملے پر فیصلہ کرنے کا مناسب فورم پارلیمنٹ ہے۔ ان کے مطابق پنجاب حکومت بلدیاتی انتخابات کرانے کا ارادہ رکھتی ہے جبکہ صوبے سے متعلق بڑے فیصلے پارلیمنٹ کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں سے متعلق بحث ابتدا میں مناسب فورم سے شروع نہیں ہوئی تھی۔ یہ معاملہ پارلیمنٹ میں آنا چاہیے تھا اور جب وہاں اس پر بحث ہوگی تو اسے بہتر انداز میں آگے بڑھایا جاسکے گا۔

رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ میں تمام آرا سامنے آنے کے بعد مسلم لیگ ن اپنا مؤقف پیش کرے گی، جبکہ حتمی فیصلہ وزیراعظم کی سطح پر کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اگر عوام کی خواہش ہو تو نئے صوبوں کے قیام میں کوئی رکاوٹ نہیں، تاہم اس حوالے سے فیصلہ پارلیمنٹ ہی کرے گی اور پارلیمان میں ہونے والے فیصلے کو تمام سیاسی جماعتوں کو تسلیم کرنا ہوگا۔

مسلم لیگ ن کے رہنما نے واضح کیا کہ حکومت خود سے نئے صوبوں کے معاملے پر ریفرنڈم کرانے کا فیصلہ نہیں کرسکتی۔ ان کے مطابق پارلیمنٹ کے فورم پر تمام آرا سامنے آنے کے بعد ہی حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

رانا ثناء اللہ نے پیپلز پارٹی کے ساتھ ہونے والی ملاقات کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ گورنر ہاؤس میں ہونے والی نشست میں آزاد کشمیر کے انتخابات کے حوالے سے دونوں جماعتوں کے درمیان پیدا ہونے والی سیاسی تلخی پر بھی گفتگو ہوئی۔

جماعت اسلامی کے دھرنوں اور ریلیوں سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی ایک سیاسی جماعت ہے اور اسے آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے سیاسی سرگرمیاں کرنے کا حق حاصل ہے۔ حکومت کے ساتھ مذاکرات میں جماعت اسلامی کے مطالبات سنے گئے جبکہ وزیراعظم نے بجلی، لوڈشیڈنگ اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی سے متعلق بھی تفصیلی گفتگو کی۔

انہوں نے جماعت اسلامی کے کارکنوں اور رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ خود کو مشکل میں ڈالنے سے گریز کریں۔ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ اگر اسلام آباد آکر حکومت گرانے کا مقصد ہو تو ایسی صورتحال میں تصادم اور تشدد کا خدشہ پیدا ہوسکتا ہے۔