اسرائیل لبنان مذاکرات میں بڑا تعطل،روم مذاکرات اکتوبر تک ملتوی

مذاکرات مؤخر کرنے کی وجوہات میں یہودی تعطیلات، پیرس میں ہونے والی ایک کانفرنس اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کی تیاریوں سمیت دیگر مصروفیات شامل ہیں۔

September 13, 2026 · اہم خبریں, بام دنیا
فائل فوٹو

فائل فوٹو

روم: اسرائیل اور لبنان کے درمیان روم میں آئندہ ہفتے ہونے والے مذاکرات اکتوبر تک ملتوی کردیئے گئے ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق مذاکرات مؤخر کرنے کی وجوہات میں یہودی تعطیلات، پیرس میں ہونے والی ایک کانفرنس اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کی تیاریوں سمیت دیگر مصروفیات شامل ہیں۔

تاہم دونوں ممالک کے سفیر آئندہ ہفتے واشنگٹن میں امریکی محکمہ خارجہ میں ملاقات کریں گے۔ ملاقات میں جون میں طے پانے والے فریم ورک معاہدے پر عمل درآمد اور خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔

مذاکرات کا باقاعدہ اگلا دور اکتوبر میں روم میں ہونے کا امکان ہے۔

مذاکرات میں تاخیر ایسے وقت میں ہوئی ہے جب جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی کارروائیوں میں دوبارہ تیزی دیکھی گئی ہے۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے حزب اللہ کے مبینہ ٹھکانوں اور تنصیبات کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔

لبنانی حکام کا کہنا ہے کہ مسلسل اسرائیلی حملوں سے جنگ بندی کے معاہدے پر عمل درآمد کی کوششیں متاثر ہورہی ہیں۔

لبنان کے صدر جوزف عون نے ہفتے کے روز جنوبی شہر نبطیہ کا اچانک دورہ کیا اور مقامی شہریوں سے اظہار یکجہتی کیا۔ ان کے ہمراہ لبنانی فوج کے سربراہ رودولف ہیکل سمیت دیگر سکیورٹی حکام بھی موجود تھے۔

صدر جوزف عون نے کہا کہ اسرائیلی فوج کا انخلا، قیدیوں اور بے گھر افراد کی واپسی جبکہ متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو لبنان کے قومی اصولوں میں شامل ہیں۔ انہوں نے شہریوں کو یقین دلایا کہ حکومت ان کی سلامتی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔

روم مذاکرات کے مؤخر ہونے اور جنوبی لبنان میں جاری فوجی کارروائیوں کے باعث جون میں طے پانے والے جنگ بندی و فریم ورک معاہدے پر عمل درآمد کو درپیش مشکلات بدستور برقرار ہیں۔ دونوں فریقوں کے درمیان باضابطہ مذاکرات کا اگلا دور اکتوبر میں ہونے کی توقع ہے۔