پنجاب بھر میں دفعہ 144 نافذ، تمام اجتماعات اور جلوسوں پر پابندی عائد

ممکنہ دہشت گردی کے خطرات کے پیش نظر حکومت پنجاب نے صوبے بھر میں دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔

September 13, 2026 · قومی
پنجاب بھر میں دفعہ 144 نافذ، تمام اجتماعات اور جلوسوں پر پابندی عائد

پنجاب بھر میں دفعہ 144 نافذ، تمام اجتماعات اور جلوسوں پر پابندی عائد

حکومت پنجاب نے صوبے بھر میں دفعہ 144 نافذ کر دیا ہے، جس کے تحت عوامی مقامات یا شاہراہوں پر اجتماعات، جلوس یا دھرنوں پر مکمل پابندی عائد ہوگی۔ محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ کے تحت عوامی مقامات، شاہراہوں یا کھلی جگہ پر 5 یا زائد افراد کے اجتماع، جلوس یا اکٹھے ہونے پر مکمل پابندی عائد ہوگی۔ نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ عوامی مقامات پر ہر قسم کے ہتھیار لے جانے اور ان کی نمائش پر بھی مکمل پابندی ہوگی، غیر قانونی اجتماعات میں لوگوں کو شرکت کے لیے اکسانے یا ترغیب دینے پر بھی پابندی عائد ہوگی۔

پابندی کا اطلاق شادی کی تقریبات، نماز جنازہ، تدفین، مساجد و دیگر عبادت گاہوں پر نہیں ہوگا، اسی طرح عدالتیں، حکومتی ادارے اور باضابطہ اجازت سے ہونے والی تقریبات پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔ محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق پابندی کا اطلاق ڈیوٹی پر تعینات قانون نافذ کرنے والے اداروں، انٹیلیجنس ایجنسیوں اور سیکیورٹی اہلکاروں پر نہیں ہوگا۔ پنجاب بھر میں دفعہ 144 کا نفاذ 13 سے 17 ستمبر تک کے لیے کیا گیا ہے، پنجاب بھر میں عوامی امن، سکون اور جان و مال کو لاحق سنگین خطرات کے پیش نظر دفعہ 144 نافذ کیا گیا ہے۔

صوبائی حکومت نے بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلیجنس ایجنسیوں کی جانب سے فوری نوعیت کے خطرات کی اطلاعات موصول ہوئیں، انٹیلیجنس رپورٹس کے مطابق دہشت گرد تنظیمیں عوامی اجتماعات کو ٹارگٹ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔ محکمہ داخلہ پنجاب نے کہا ہے کہ اجتماعات، ریلیوں، جلسوں، دھرنوں، جلوسوں اور مظاہروں میں لوگوں کی بڑی تعداد کا ممکنہ دہشت گردوں کے حملوں کا آسان ہدف بننے کا اندیشہ ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ممکنہ دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے فوری حفاظتی اقدامات میں معاونت کی درخواست کی۔

سیکریٹری داخلہ نے ضابطہ فوجداری 1898 کی دفعہ 144 (6) کے تحت عوامی اجتماعات پر فوری پابندی عائد کر دی ہے، کیونکہ عوام کے جان و مال کا تحفظ حکومت پنجاب کی اولین ترجیح ہے۔