سیشن جج لاہور نے جوڈیشل افسران کو ذاتی گاڑیوں پرسرکاری نمبر اور بلیو لائٹ لگانے سے روک دیا

مونیٹائزڈ گاڑیاں نجی تصور ہوں گی۔ کسی قسم کا سرکاری لوگو یا مونوگرام استعمال نہیں کر سکیں گے

September 14, 2026 · قومی
فائل فوٹوز

فائل فوٹوز

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لاہور طارق خورشید خواجہ نے جوڈیشل افسران کی ذاتی اور مونیٹائزڈ گاڑیوں پر گرین نمبر پلیٹس، بلیو لائٹس اور سرکاری علامات کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کر دی ۔ اس حوالے سے تمام جوڈیشل افسران کو باضابطہ مراسلہ ارسال کر دیا گیا ہے۔

مراسلے کے مطابق، مونیٹائزیشن کے بعد استعمال ہونے والی گاڑیاں سرکاری گاڑیوں کا تاثر دے رہی تھیں، جس کے پیش نظر واضح ہدایات جاری کرنا ضروری ہو گیا تھا۔ دستاویز کے مطابق مونیٹائزڈ گاڑی ہر مقصد کے لیے نجی اور ذاتی گاڑی تصور ہوگی، اور اس کی ظاہری شکل کسی بھی صورت میں سرکاری گاڑی کی نشاندہی نہیں کرے گی۔

احکامات میں سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ عدالتی افسران اپنی ذاتی یا مونیٹائزڈ گاڑیوں پر گرین رجسٹریشن نمبر پلیٹ یا سرکاری شناخت ظاہر کرنے والی کوئی بھی پلیٹ استعمال نہیں کر سکیں گے۔ مزید برآں، گاڑیوں پر لاہور ہائیکورٹ یا پنجاب ڈسٹرکٹ جوڈیشری کا مونوگرام، لوگو، مہر، اسٹیکر یا بیج لگانے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

مراسلے میں مزید واضح کیا گیا ہے کہ ججز اور عدالتی افسران گاڑیوں پر سرکاری نشان، جھنڈا یا عہدہ ظاہر کرنے والی کوئی تحریر استعمال نہیں کر سکیں گے۔ اس کے علاوہ مونیٹائزڈ گاڑیوں پر بلیو لائٹ، بیکن، گھومنے والی لائٹ، فلیشر یا گاڑی کے اندر ایمرجنسی لائٹ رکھنا بھی ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ مراسلے کے آخر میں خبردار کیا گیا ہے کہ احکامات کی خلاف ورزی کی صورت میں معاملہ متعلقہ اتھارٹی کو رپورٹ کیا جائے گا اور اس پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔