میر رضا کیس: پولیس سرجن کو سنگین دھمکیاں ملنے کا انکشاف۔ سی آئی اے انسپکٹر طلب

جوڈیشل کمیشن کے روبرو انکشافات، مقتول کی ناک کی ہڈی ٹوٹی اور سر پر چوٹ تھی جو موت سے پہلے کی تھیں۔

September 14, 2026 · امت خاص
پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ جوڈیشل کمیشن میں پیش ہوئیں

پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ جوڈیشل کمیشن میں پیش ہوئیں

 

میر رضا کیس کی تحقیقات کے دوران پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ کو مبینہ دھمکیاں ملنے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جہاں جوڈیشل کمیشن کے ساتویں اجلاس میں انہوں نے پیش ہو کر اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔

دستاویزات اور کمیشن کے روبرو پیش کی گئی تفصیلات کے مطابق، ڈاکٹر سمعیہ نے مؤقف اختیار کیا کہ کیس کی پیروی کی وجہ سے انہیں دھمکیاں مل رہی ہیں، دو دن تک ان کا پیچھا کیا گیا اور سوشل میڈیا پر ان کے گھر کا ایڈریس اور شوہر کا نام چلایا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان پر زمین پر قبضے کا جھوٹا الزام بھی عائد کیا گیا ہے جس کی شکایت این سی سی آئی اے کو کر دی گئی ہے۔ اس دوران سی آئی اے کے ایک انسپکٹر کی جانب سے ریکارڈ مانگنے کے معاملے پر کمیشن کے سربراہ جسٹس عمر سیال نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے ناقابل قبول قرار دیا اور سی آئی اے انسپکٹر محمد علی کو طلب کر لیا۔ کمیشن نے ڈاکٹر سمعیہ کو رینجرز سیکیورٹی فراہم کرنے کی ہدایت بھی جاری کی۔

پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ نے انکشاف کیا کہ نوجوان تاجر میر رضا کی ناک کی ہڈی ٹوٹی ہوئی تھی اور سر کے عقبی حصے پر سخت چیز لگنے کا نشان تھا، اور یہ تمام زخم موت سے پہلے کے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ میر رضا کو لگنے والی گولی سے پسلیاں فریکچر ہوئیں جبکہ پھیپھڑے اور دل کو بھی نقصان پہنچا۔ ڈاکٹر سمعیہ کے مطابق ابتدائی پوسٹ مارٹم میں گولی کے زخم کے سائز کا اندراج غلط کیا گیا تھا اور سینے کے جس نشان کو گولی داخل ہونے کا پوائنٹ بتایا گیا وہ درست نہیں تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کیمیکل ایگزامنیشن کی رپورٹ میں جسم پر تیزاب کے اثرات کی بھی تصدیق ہوئی ہے، جبکہ اس پورے معاملے میں محکمہ صحت اور پولیس کی کارروائیوں میں متعدد نقائص اور مبینہ دباؤ کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔