ڈیرہ اسماعیل خان میں پاکستان کسٹمز نے اسلحہ اسمگلنگ کی بڑی کوشش ناکام بنادی
پاکستان کسٹمز نے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور گاڑی قبضے میں لے لی۔
فائل فوٹو
ڈیرہ اسماعیل خان میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ماتحت ادارے پاکستان کسٹمز نے ڈیرہ اسماعیل خان کے قریب اسلحہ اسمگلنگ کی بڑی کوشش ناکام بنادی۔
کلکٹریٹ آف کسٹمز انفورسمنٹ پشاور نے مصدقہ خفیہ اطلاع پر انسدادِ دہشت گردی اور انسدادِ اسمگلنگ کی کارروائی کرتے ہوئے گولوتی، ڈیرہ اسماعیل خان روٹ پر غیر قانونی اسلحہ اور گولہ بارود کی بھاری کھیپ پکڑ لی۔
ایف بی آر کے مطابق کسٹمز انفورسمنٹ کی ٹیم نے غیر قانونی اسلحہ اور گولہ بارود کی بھاری کھیپ لے جانے والی گاڑی سے اسلحہ برآمد کیا۔ اسلحے کی مقدار، کیلیبر اور اسے چھپانے کے طریقہ کار کو مدنظر رکھتے ہوئے حکام کو شبہ ہے کہ یہ کھیپ علاقے میں سرگرم دہشت گرد اور دیگر ریاست مخالف عناصر کے لیے روانہ کی جا رہی تھی۔
حکام کے مطابق کارروائی سے مغربی سرحدی پٹی میں عسکریت پسندی اور منظم جرائم کو تقویت دینے والے اسلحے کی سپلائی چین کو بڑا دھچکا پہنچا ہے۔ جے سی پی یارک سے خصوصی طور پر تعینات کسٹمز ٹیم نے مشتبہ گاڑی کو روکنے کے لیے کارروائی کی۔
رکنے کا اشارہ ملنے پر ڈرائیور نے چیک پوسٹ سے فرار ہونے کی کوشش کرتے ہوئے گاڑی کی رفتار بڑھا دی۔ کسٹمز اہلکاروں نے تعاقب کرتے ہوئے تقریباً رات ایک بجے سدرا شریف کے مقام پر گاڑی کو روک لیا، تاہم ڈرائیور گاڑی چھوڑ کر پیدل فرار ہوگیا۔
ملزم کو گرفتار کرنے اور کھیپ کے پیچھے موجود نیٹ ورک کا سراغ لگانے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اور انٹیلی جنس اداروں کے تعاون سے کوششیں جاری ہیں۔
گاڑی سے اسلحہ اور گولہ بارود کا بھاری ذخیرہ برآمد کیا گیا، جس میں اسالٹ رائفلز، پستول اور مختلف کیلیبرز کے ہزاروں راؤنڈز شامل ہیں۔ برآمد شدہ سامان میں ایم فور طرز کی رائفلز، جی تھری رائفلز، زیادہ گنجائش والی رائفل میگزینز، اے کے-47 میگزینز اور گولیاں، پستولوں کی گولیاں اور مختلف ساخت و ماخذ کے پستول شامل ہیں۔
برآمد شدہ اسلحہ، گولہ بارود اور گاڑی کی مجموعی مالیت تقریباً 3 کروڑ 20 لاکھ روپے بتائی گئی ہے۔ برآمد شدہ سامان کو سرکاری تحویل میں لے لیا گیا ہے، جبکہ کسٹمز ایکٹ 1969 اور دیگر متعلقہ قوانین کی دفعات کے تحت قانونی کارروائی شروع کی جا رہی ہے۔
اس مقصد کے لیے قانون نافذ کرنے والے اور انسدادِ دہشت گردی کے اداروں کے ساتھ مل کر کھیپ کے ممکنہ وصول کنندگان اور وسیع تر اسمگلنگ نیٹ ورک کا سراغ لگایا جا رہا ہے۔
کسٹمز حکام نے قومی انسدادِ دہشت گردی کی جاری کوششوں کے تحت سرحدی اور دور دراز راستوں سے اسلحہ اور گولہ بارود کی غیر قانونی نقل و حرکت روکنے کے لیے بھرپور اقدامات جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
کلکٹر کسٹمز انفورسمنٹ پشاور عائشہ بشیر وانی نے کہا کہ بروقت کارروائی فیلڈ اسٹاف کی مستعدی، پیشہ ورانہ صلاحیت اور اس عزم کا مظہر ہے کہ دہشت گرد اور جرائم پیشہ نیٹ ورکس کو اسلحہ اور گولہ بارود تک رسائی سے محروم رکھا جائے اور عوامی تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کسٹمز ملک کی معاشی سرحدوں کو ہر قسم کی اسمگلنگ اور غیر قانونی تجارت سے محفوظ رکھنے کے لیے پُرعزم ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قانون نافذ کرنے والے اور سکیورٹی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھے ہوئے ہے۔
پاکستان کسٹمز نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ انسدادِ دہشت گردی اور انسدادِ اسمگلنگ کی کارروائیاں تمام حساس اور دور دراز راستوں پر بھرپور انداز میں جاری رکھی جائیں گی۔
حکام کے مطابق ان کارروائیوں میں قانون نافذ کرنے والے، انٹیلی جنس اور سکیورٹی اداروں کے ساتھ قریبی رابطہ برقرار رکھتے ہوئے پاکستان کی معاشی سلامتی اور عوام کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔