وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی لاہور میں مبینہ حراست، لکشمی چوک پر بغیر سیکیورٹی چھوڑنے پر شدید سیاسی بحران

واقعے کے بعد پی ٹی آئی نے اسے مینڈیٹ پر حملہ قرار دیا جبکہ انتظامی کشمکش کے باعث شہر میں سیاسی ہلچل بڑھ گئی ہے۔

September 15, 2026 · اہم خبریں
لاہور کے لکشمی چوک پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی اور سیکیورٹی اہلکاروں کا منظر

لاہور کے لکشمی چوک پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی اور سیکیورٹی اہلکاروں کا منظر

لاہور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی کو پنجاب پولیس کی جانب سے مبینہ طور پر حراست میں لینے اور بعد میں لاہور کے لکشمی چوک پر بغیر سیکیورٹی چھوڑنے کا واقعہ پیش آیا ہے، جسے ان کی پارٹی اور انہوں نے “اغوا کی کوشش” قرار دیا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے احتجاج اور سیاسی سرگرمیوں کے سلسلے میں وزیراعلیٰ کے پی محمد سہیل آفریدی لاہور میں موجود تھے۔ پولیس ذرائع اور پارٹی رپورٹس کے مطابق 14 ستمبر 2026 کو پنجاب پولیس اور ان کے درمیان تلخ کلامی ہوئی، جس کے بعد پولیس نے انہیں اپنی وین میں بٹھا لیا۔ “سہیل آفریدی اور پنجاب پولیس میں تلخ کلامی #sohailafridi #cmsohailafridi #PTI #PunjabPolice #WaqtNewsHD”

پنجاب پولیس نے کچھ دیر بعد وزیراعلیٰ کو لاہور کے مصروف ترین علاقے لکشمی چوک پر ان کی سیکیورٹی ٹیم اور گاڑیوں کے بغیر اکیلا چھوڑ دیا۔ سیکیورٹی نہ ہونے کی وجہ سے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی لکشمی چوک پر فٹ پاتھ پر بیٹھ گئے، اور کچھ دیر بعد ان کے اپنے محافظ اور کارکنان وہاں پہنچ گئے۔ تصویری اور دستاویزی شواہد کے مطابق اس دوران “اغوا کی کوشش” جیسی صورتحال بھی دیکھی گئی جہاں سیکیورٹی اور آمدورفت کے معاملات پر تناؤ پیدا ہوا۔

پی ٹی آئی کی آفیشل ویڈیوز اور رہنماؤں کے مطابق یہ ایک صوبے کے منتخب وزیراعلیٰ کو اغوا کرنے کی کوشش اور ان کی تضحیک ہے۔ انہوں نے اسے سیاسی انتقام اور فسطائیت قرار دیا ہے۔ دوسری طرف، سوشل میڈیا اور سیاسی مخالفین کی طرف سے یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے کہ دھرنے اور سیاسی حالات سے جان چھڑانے کے لیے یہ سب ایک ڈرامہ تھا اور وہ خود پولیس کی گاڑی میں بیٹھے تھے تاکہ گرفتاری کا تاثر دیا جا سکے۔

انصاف ٹی وی کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اپنے کارکنوں سے اپیل کی ہے کہ وہ پُرامن رہیں، کسی قسم کا انتشار پیدا نہ کریں اور اشتعال میں نہ آئیں کیونکہ پنجاب حکومت حالات خراب کرنا چاہتی ہے۔ پی ٹی آئی کے کارکنان اس واقعے کے خلاف شدید غصے میں ہیں اور صوبائی قیادت سے واضح لائحہ عمل کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے ممکنہ لانگ مارچ کے حوالے سے وزرائے اعلیٰ کو سرکاری مشینری استعمال نہ کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔