گلگت بلتستان کا 218 ارب روپے کا بجٹ منظور

وفاقی حکومت کی جانب سے فراہم کیا جانے والا سٹیبلائزیشن پیکیج بھی بجٹ کا حصہ بنایا گیا ہے، جبکہ تمام محکموں کے غیر ترقیاتی اخراجات میں 30 فیصد تک کمی لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

September 15, 2026 · قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

گلگت بلتستان کی کابینہ نے مالی سال 2026-27 کا بجٹ منظور کرلیا ہے، جس کا مجموعی حجم 218 ارب روپے رکھا گیا ہے۔ بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار سے بڑھا کر 44 ہزار روپے کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔

منظور شدہ بجٹ میں ترقیاتی شعبے کے لیے 23 ارب روپے جبکہ غیر ترقیاتی اخراجات کے لیے 28 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ وفاقی حکومت کی جانب سے فراہم کیا جانے والا سٹیبلائزیشن پیکیج بھی بجٹ کا حصہ بنایا گیا ہے، جبکہ تمام محکموں کے غیر ترقیاتی اخراجات میں 30 فیصد تک کمی لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین نے کہا کہ محدود مالی وسائل کے باوجود بجٹ میں سماجی شعبے کو مرکزی اہمیت دی گئی ہے۔ ان کے مطابق نوجوانوں اور خواتین کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ صحت، تعلیم اور زراعت کے شعبوں کو بھی ترجیح دی گئی ہے۔

کابینہ نے سرکاری اور غیر سرکاری اداروں میں کم از کم اجرت 44 ہزار روپے مقرر کرنے کی منظوری دی۔ ادویات کی خریداری کے لیے 17 کروڑ روپے کا اضافی فنڈ مختص کیا گیا ہے، جبکہ ہیلتھ انڈومنٹ فنڈ اور ہونہار طلبہ کے وظائف میں بھی نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔

زرعی شعبے کی ترقی کے لیے واٹر مینجمنٹ کے منصوبوں کو 5 کروڑ روپے فراہم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ گلگت بلتستان میں پہلی مرتبہ سماجی تحفظ کے لیے ایک ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ سماجی شعبے کے لیے 4 ارب روپے کے انڈومنٹ فنڈ کے قیام کی تجویز بھی بجٹ میں شامل ہے۔

بجٹ میں ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے بھی اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔ ترقیاتی منصوبوں سے ایک فیصد رقم کلائمیٹ فنڈ کے لیے مختص کرنے اور اسے کنسولیڈیٹڈ اکاؤنٹ میں جمع کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

کابینہ نے سرکاری محکموں کے لیے ہائبرڈ گاڑیاں خریدنے کی منظوری بھی دی ہے۔ زیادہ ایندھن استعمال کرنے والی پرانی سرکاری گاڑیوں کو نیلام کیا جائے گا تاکہ سرکاری اخراجات میں کمی لائی جاسکے۔

ترقیاتی منصوبوں کی رفتار تیز کرنے کے لیے تھرو فارورڈ کم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کے ارکان کو ترقیاتی فنڈز میں مساوی حصہ دینے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

وزیراعلیٰ امجد حسین نے کہا کہ حکومت وسائل کی منصفانہ تقسیم اور تمام علاقوں میں مساوی ترقی کو یقینی بنائے گی۔ انہوں نے ترقیاتی منصوبوں کے پی سی ون اور ٹینڈر کے مراحل میں شفافیت یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ترقیاتی فنڈز حقیقی معنوں میں عوامی منصوبوں پر خرچ کیے جائیں گے۔