ایران پر پابندیوں کی نگرانی، روس اور چین نے امریکی قرارداد ویٹو کردی

قرارداد کے حق میں 11 ارکان نے ووٹ دیا، جبکہ پاکستان اور صومالیہ نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا

September 18, 2026 · بام دنیا
ایران پر پابندیوں کی نگرانی، روس اور چین نے امریکی قرارداد ویٹو کردی

ایران پر پابندیوں کی نگرانی، روس اور چین نے امریکی قرارداد ویٹو کردی

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران پر عائد پابندیوں کی نگرانی کرنے والے ماہرین کے پینل کی مدت میں توسیع کی امریکی کوشش روس اور چین کے ویٹو کے باعث ناکام ہوگئی۔

نیویارک: سلامتی کونسل کے اجلاس میں امریکا کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد کے حق میں 11 ارکان نے ووٹ دیا، جبکہ پاکستان اور صومالیہ نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔ تاہم مستقل ارکان روس اور چین نے قرارداد کے خلاف ووٹ دے کر اسے ویٹو کردیا، جس کے نتیجے میں قرارداد منظور نہ ہوسکی۔

روسی نمائندے نے مؤقف اختیار کیا کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق سلامتی کونسل کی کارروائی کے موجودہ قانونی جواز پر سوالات موجود ہیں۔ روس اور چین کا کہنا تھا کہ ایران سے متعلق پابندیوں اور جوہری معاملے کو سیاسی طریقے سے آگے بڑھانے کے بجائے سفارتی حل تلاش کیا جانا چاہیے۔

امریکی مسودہ قرارداد کا مقصد ایران پر عائد اقوام متحدہ کی پابندیوں کی نگرانی کے لیے ماہرین کے پینل کے مینڈیٹ میں مزید توسیع کرنا تھا۔ روس اور چین کے ویٹو کے بعد اس نگرانی کے طریقہ کار کو جاری رکھنے کی کوشش ناکام ہوگئی۔

ایران کے اقوام متحدہ میں مشن نے قرارداد کو روکنے پر روس اور چین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کے مؤقف کو سراہا۔ ایرانی مشن کے مطابق ماسکو اور بیجنگ نے سلامتی کونسل کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کو ناکام بنایا۔

دوسری جانب امریکا اور بعض مغربی ممالک کا مؤقف ہے کہ ایران سے متعلق دوبارہ نافذ ہونے والی پابندیوں کی نگرانی کے لیے اقوام متحدہ کا طریقہ کار برقرار رہنا چاہیے، جبکہ روس اور چین اس معاملے میں قانونی بنیاد اور طریقہ کار سے متعلق اعتراضات اٹھاتے رہے ہیں۔