برطانیہ کا ایوارڈ واپس، چرچ آف پاکستان نے حافظ طاہر اشرفی کو گلوبل پیس ایوارڈ دے دیا
اہم تبدیلی، برطانوی ایوارڈ واپس لیا گیا، چرچ آف پاکستان کی جانب سے اعزاز۔
برطانیہ کا ایوارڈ واپس، چرچ آف پاکستان نے حافظ طاہر اشرفی کو گلوبل پیس ایوارڈ دے دیا
پاکستان علما کونسل کے چیئرمین حافظ طاہر محمود اشرفی کو برطانیہ میں دیا گیا دی ہیوبرٹ والٹر ایوارڈ فار ریکنسیلی ایشن اینڈ انٹرفیتھ کوآپریشن 2026 واپس لے لیا گیا ہے، جبکہ دوسری جانب چرچ آف پاکستان نے انہیں امن، بین المذاہب ہم آہنگی اور مذہبی رواداری کے لیے خدمات کے اعتراف میں گلوبل پیس ایوارڈ سے نواز دیا ہے۔
لاہور میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران چرچ آف پاکستان کے صدر بشپ آزاد مارشل نے حافظ طاہر محمود اشرفی کو گلوبل پیس ایوارڈ پیش کیا۔ اس موقع پر جاری کردہ تفصیلات کے مطابق یہ اعزاز ملک میں امن، مذہبی ہم آہنگی، مختلف مذاہب کے درمیان مکالمے اور غیرمسلم شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ان کی خدمات کے اعتراف میں دیا گیا ہے۔ بشپ آزاد مارشل نے حافظ طاہر محمود اشرفی کی قومی اور بین الاقوامی سطح پر کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پاکستان میں مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان مکالمے اور ہم آہنگی کے فروغ کے لیے مسلسل کردار ادا کیا ہے۔
اس موقع پر حافظ طاہر محمود اشرفی نے چرچ آف پاکستان اور بشپ آزاد مارشل کا شکریہ ادا کرتے ہوئے عزم ظاہر کیا کہ وہ امن، مذہبی ہم آہنگی اور تمام پاکستانیوں کے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل پیغام امن کمیٹی کے پلیٹ فارم سے مسلم اور غیرمسلم مذہبی قیادت کی مشترکہ کوششیں پاکستان میں امن، بین المذاہب و بین المسالک ہم آہنگی اور قومی یک جہتی کو مزید مضبوط کریں گی۔
واضح رہے کہ دی ہیوبرٹ والٹر ایوارڈ فار ریکنسیلی ایشن اینڈ انٹرفیتھ کوآپریشن 2026 حافظ طاہر محمود اشرفی کو 11 ستمبر کو لندن کے لیمبیتھ پیلس میں ایک تقریب کے دوران دیا گیا تھا۔ بعد ازاں آرچ بشپ آف کینٹربری کے دفتر نے ان کا یہ ایوارڈ واپس لینے کا فیصلہ کیا، جس کی وجہ ان کے ماضی کے بعض بیانات کو قرار دیا گیا۔
ایوارڈ واپس لیے جانے کے بعد حافظ طاہر محمود اشرفی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک ویڈیو بیان میں مؤقف اختیار کیا کہ ان کے بعض بیانات کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا جس کی بنیاد پر ایوارڈ واپس لینے کا فیصلہ ہوا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس فیصلے کے پیچھے بھارتی اور احمدی لابی کا کردار ہے۔ آرچ بشپ آف کینٹربری کے دفتر نے ایوارڈ واپس لینے سے قبل ان سے توہین مذہب کے قانون، سلمان رشدی، اسامہ بن لادن اور ان کی اہلیہ کے حجاب سے متعلق بعض معاملات پر وضاحت طلب کی تھی، جس پر انہوں نے مؤقف اپنایا تھا کہ وہ توہین مذہب کے قانون کے برقرار رہنے کے حق میں ہیں تاہم اس کے غلط استعمال کی مخالفت کرتے ہیں۔