نئے انتظامی یونٹس سے قتل و غارت نہیں ہوگی، مصطفیٰ کمال

اس کا مقصد انتظامی معاملات کو بہتر بنانا اور پاکستان کو مضبوط کرنا ہے۔

September 19, 2026 · قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما مصطفیٰ کمال نے سندھ میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی مخالفت کرنے والوں کو جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ نئے انتظامی یونٹ بننے سے کوئی قتل و غارت گری نہیں ہوگی، بلکہ اس کا مقصد انتظامی معاملات کو بہتر بنانا اور پاکستان کو مضبوط کرنا ہے۔

کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ کراچی، حیدرآباد اور سندھ کے دیگر شہری علاقوں میں مختلف زبانیں بولنے والے افراد طویل عرصے سے ایک دوسرے کے ساتھ رہ رہے ہیں۔ ان کے مطابق اگر انتظامی تبدیلی سے قتل و غارت گری کا خدشہ ہوتا تو شہر میں موجود محرومیوں اور مسائل کے باعث پہلے ہی حالات خراب ہو چکے ہوتے۔

انہوں نے کہا کہ نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے معاملے پر یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ کراچی میں رہنے والے اردو بولنے والے شہری سندھی بھائیوں کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کریں گے اور اس کے نتیجے میں بدامنی پیدا ہوگی، تاہم ان کے بقول یہ خدشہ درست نہیں۔

مصطفیٰ کمال نے سندھ حکومت کی کارکردگی پر بھی تنقید کی اور کہا کہ کراچی کے نوجوانوں کو سرکاری ملازمتوں کے مواقع نہیں مل رہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ طویل عرصے سے جاری حکمرانی کے باوجود شہر کے نوجوانوں کو بنیادی سرکاری روزگار بھی فراہم نہیں کیا گیا۔

ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما نے کوٹا سسٹم پر بھی اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے نوجوانوں کو ملازمتوں کے حوالے سے مشکلات کا سامنا ہے۔

انہوں نے شہر میں امن و امان کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے شہری مختلف واقعات میں اپنی جانیں گنوا رہے ہیں۔ ان کے مطابق بعض افراد ٹریفک حادثات کا شکار ہوتے ہیں جبکہ بعض شہری موبائل فون یا معمولی رقم چھیننے کے دوران فائرنگ کا نشانہ بن جاتے ہیں۔

مصطفیٰ کمال نے کراچی میں شہری سہولتوں کی کمی پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ شہر کے مختلف علاقوں میں پینے کے پانی، سڑکوں اور دیگر بنیادی سہولتوں کے مسائل موجود ہیں اور ترقیاتی کاموں کے باعث متعدد مقامات پر سڑکیں کھودی گئی ہیں۔

انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ مختلف سرکاری محکموں میں رشوت کا مسئلہ موجود ہے جبکہ کاروباری طبقے کو بھی مبینہ طور پر رشوت کے مطالبات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی بات کسی کو تقسیم کرنے کے لیے نہیں بلکہ ملک کو انتظامی طور پر بہتر انداز میں چلانے اور پاکستان کو جوڑنے کے لیے کی جا رہی ہے۔