جماعت اسلامی اور حکومت کے درمیان مذاکرات کا پانچواں دور ختم
مذاکرات میں حکومتی وفد کی نمائندگی وفاقی وزیر احسن اقبال، رانا ثنااللہ اور صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق نے کی
جماعت اسلامی اور حکومت کے درمیان مذاکرات کا پانچواں دور ختم
لاہور: جماعت اسلامی اور حکومت کے درمیان مذاکرات کا پانچواں دور بھی اختتام پذیر ہوگیا، تاہم لانگ مارچ کے معاملے پر دونوں فریقوں کے درمیان اتفاق رائے سامنے نہیں آسکا۔
مذاکرات میں حکومتی وفد کی نمائندگی وفاقی وزیر احسن اقبال، رانا ثنااللہ اور صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق نے کی، جبکہ جماعت اسلامی کی جانب سے نائب امیر لیاقت بلوچ، قائم مقام سیکرٹری جنرل نذیر احمد جنجوعہ، معاون خصوصی عمیر ادریس، امیر جماعت اسلامی لاہور ضیاالدین انصاری اور سیکرٹری اطلاعات شکیل احمد ترابی شریک ہوئے۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات کے دوران حکومتی وفد نے سیکیورٹی خطرات کا حوالہ دیتے ہوئے جماعت اسلامی سے لانگ مارچ مؤخر کرنے کی درخواست کی۔
جماعت اسلامی کے رہنما لیاقت بلوچ نے مؤقف اختیار کیا کہ لیوی کے خاتمے تک احتجاج اور لانگ مارچ کا سلسلہ جاری رکھنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق حکومتی وفد نے عوام کو جلد غیر معمولی ریلیف دینے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
حکومتی وفد نے مذاکرات میں آئی ایم ایف کے دباؤ کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ عالمی مالیاتی ادارے کا وفد جلد پاکستان آنے کی توقع ہے۔
لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ حکومت کو عوامی مطالبات پر عملی اقدامات کرنا ہوں گے، بصورت دیگر جماعت اسلامی احتجاج اور لانگ مارچ کرے گی۔
جماعت اسلامی کے اعلان کے مطابق امیر جماعت اسلامی کی قیادت میں سپر لانگ مارچ کل کراچی سے شروع ہوگا۔ مذاکرات کے باوجود احتجاجی پروگرام میں فی الحال کوئی تبدیلی سامنے نہیں آئی۔