’’آپریشن غضب للحق‘‘میں افغان سرحدی علاقوں پر کارروائی کے دوران 37دہشت گردہلاک،پاکستانی حکومت کا اعلامیہ

ہم ٹھکانوں اور تربیتی مراکز کو نشانہ بنایا گیا،وزارت اطلاعات

September 21, 2026 · اہم خبریں

 

پاکستانی حکومت نے کہا ہے کہ حالیہ دہشت گرد حملوں کے بعد خیبرپختونخوا اور پاک افغان سرحدی علاقوں میں مصدقہ انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں میں دہشت گردوں کے اہم ٹھکانوں اور تربیتی مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ کارروائیوں میں میں مجموعی طور پر 37 دہشت گرد ہلاک کردیئے گئے۔

وفاقی وزارت اطلاعات سے جاری بیان کے مطابق افغانستان سے ملحقہ سرحدی علاقے میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر کارروائیاں کی گئیں، خودکش بمباروں کے تربیتی مرکز سمیت دہشت گردوں کے 3ٹھکانے درست نشانہ بناکرتباہ کردیئے گئے۔

بیان کے مطابق سرحدی علاقوں میں کارروائیوں کے دوران 28 دہشت گرد ہلاک ہوگئے، دہشت گردوں کے مراکز میں موجود بڑی مقدار میں اسلحہ،گولہ بارود بھی تباہ کردیا گیا۔

دوسری جانب خیبرپختونخوا میں دہشت گردحملوں کے بعد کوہاٹ اورہنگو میں سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران 9 خوارج ہلاک ،اور متعدد زخمی ہوگئے۔

وزارت اطلاعات کے مطابق پاکستان نے ہمیشہ خطےمیں امن واستحکام کے قیام کیلئے کوششیں کی ہیں، دہشت گردی کاخطرہ افغانستان سے پاکستان کی جانب آرہاہے، دہشت گردوں کے مراکز کوکارروائیوں میں درست طور پر نشانہ بنایاگیا، کارروائیوں کے دوران زیادہ سے زیادہ احتیاطی تدابیر اختیارکی گئیں۔

اعلامیے کے مطابق دہشت گردی کیخلاف آپریشن غضب للحق پوری رفتار سے جاری رہےگا، غیرملکی معاونت یافتہ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے کارروائیاں جاری رہیں گے۔

افغانستان کے مشرقی صوبوں کنڑ اور پکتیکا میں مبینہ طور پر پاک فضائیہ نے حملے کیے، جن کے نتیجے میں  طالبان حکومت نے کم از کم تین ہلاکتوں اور کئی دیگر زخمی ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔غیر ملکی میڈیا نے پاکستانی سکیورٹی حکام کے حوالے سے بتایا کہ ان فضائی حملوں میں 28 مبینہ عسکریت پسند ہلاک ہوئے۔

طالبان حکومت کے مرکزی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نےکنڑ اور پکتیکا کے علاقوں میں پاکستانی فوج کی فضائی بمباری اور حملوں پر مذمتی بیان جاری کیاہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ اس اقدام کا افغان عوام مناسب جواب دیں گے۔

ذبیح اللہ مجاہد نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کہا کہ اتوار کی رات پاکستانی فوج نے ایک بار پھر کنڑ اور پکتیکا کے شہری علاقوں پر بمباری کی جس کے نتیجے میں کنڑ میں ایک خاتون اور 2 مرد جا ں بحق ہوگئے، 2 خواتین اور 2 مرد زخمی ہوگئے۔

طالبان حکام کے مطابق، پاکستانی لڑاکا طیاروں نے رات تقریباً ڈھائی بجے صوبہ کنڑکے ضلع نورگل میں بمباری کی، جس کے نتیجے میں تین افرادجان کی بازی ہار گئے اور متعدد زخمی ہو ئے۔

فضائی حملوں کی دوسری لہر نے صبح تقریباً 4 بجے کے قریب صوبہ پکتیکا کے ضلع برمل کو نشانہ بنایا، جہاں طالبان سے منسلک میڈیا کے مطابق تور کندی اور راکھامیں تباہی ہوئی۔ ان مقامات سے کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

پاکستان کی فوج کی طرف سے تاحال ان مبینہ فضائی حملوں پر کوئی باضابطہ تبصرہ یا بیان جاری نہیں کیا گیا۔جرمن نشریاتی ادارے نے لکھاہے کہ پاکستانی وزارت اطلاعات نے ہفتے کے روز خبردار کیا تھا کہ ملک میں حملوں کے جواب میں افغانستان کے اندر عسکریت پسندوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

یہ فضائی حملے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پاکستان نے حالیہ ہفتوں میں خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے صوبوں میں سیکیورٹی فورسز پر ہونے والے مہلک حملوں کے بعد عسکریت پسند گروہوں کے خلاف اپنی عسکری کارروائیوں میں نمایاں تیزی کر دی ہے۔پاکستانی حکام نے کوہاٹ میں حالیہ دہشت گردانہ حملوں کو بھی انہی جنگجوؤں سے جوڑا ہے جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ سرحد پار افغانستان سے داخل ہوئے تھے۔