115 اضلاع میں ذیلی قومی انسدادِ پولیو مہم شروع،3 کروڑ سے زائد بچوں کو قطرے پلائے جائیں گے

اہم مہم کا آغاز، 2 لاکھ 73 ہزار ورکرز شریک، کراچی کے نمونوں میں وائرس کی تصدیق۔

September 21, 2026 · ہیلتھ
ملک بھر میں جاری انسدادِ پولیو مہم کے دوران بچوں کو قطرے پلائے جا رہے ہیں۔

ملک بھر میں جاری انسدادِ پولیو مہم کے دوران بچوں کو قطرے پلائے جا رہے ہیں۔

 

ملک بھر کے منتخب اضلاع میں  ذیلی قومی انسدادِ پولیو مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر (ای او سی) کے اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر کے 115 منتخب اضلاع میں چلنے والی اس مہم کے دوران 5 سال سے کم عمر کے 3 کروڑ 10 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔ اس قومی مقصد کے لیے 2 لاکھ 73 ہزار سے زائد پولیو ورکرز فیلڈ میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔

سرکاری دستاویزات اور رپورٹس کے مطابق پنجاب کے 13 منتخب اضلاع میں 1 کروڑ 6 لاکھ بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے، جبکہ سندھ کے 30 منتخب اضلاع میں 1 کروڑ بچوں کو یہ ویکسین دی جائے گی۔ اسی طرح خیبر پختونخوا کے 37 منتخب اضلاع میں 73 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ بلوچستان کے 32 منتخب اضلاع میں 23 لاکھ بچوں، اسلام آباد میں 4 لاکھ 47 ہزار بچوں اور گلگت بلتستان کے 2 منتخب اضلاع میں 1 لاکھ 37 ہزار بچوں کو انسدادِ پولیو کی ویکسین پلائی جائے گی۔

دوسری جانب ایمرجنسی آپریشن سینٹر سندھ کی رپورٹ کے مطابق رواں سال اگست میں صوبے کے مختلف اضلاع سے لیے گئے ماحولیاتی نمونوں کے اعداد و شمار بھی سامنے آئے ہیں، جن کے مطابق کراچی کے اضلاع وسطی، غربی، جنوبی اور کورنگی کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ حیدرآباد کے 2 ماحولیاتی نمونے بھی پولیو وائرس سے مثبت نکلے ہیں۔ ای او سی حکام کا کہنا ہے کہ جن اضلاع کے نمونوں میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے، وہاں انسدادِ پولیو ویکسینیشن اور دیگر حفاظتی اقدامات پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

محکمہ صحت اور متعلقہ حکام نے والدین سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ بچوں کے صحت مند مستقبل کے لیے پولیو ٹیموں سے بھرپور تعاون کریں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پولیو ورکرز مشکل ترین حالات میں بھی ہر بچے کے تحفظ کے لیے گھر گھر پہنچتے ہیں، اس لیے والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ 5 سال سے کم عمر ہر بچے کو اس مہم کے دوران پولیو سے بچاؤ کے قطرے لازمی پلوائیں۔