جن کا کام نلکے میں پانی دینا ہے وہی ٹینکرز چلا رہے ہیں، مصطفیٰ کمال

انتظامی یونٹس ناگزیر ہیں، نیا سندھ بن سکتا تھا، 22 ہزار ارب روپے غائب کیے گئے، مصطفیٰ کمال کا دعویٰ۔

September 21, 2026 · قومی
وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال کراچی میں تقریب سے خطاب کر رہے ہیں۔

وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال کراچی میں تقریب سے خطاب کر رہے ہیں۔

 

کراچی میں ایک تقریب اور رابطہ مہم سے خطاب کرتے ہوئے متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما اور وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ نئے انتظامی یونٹس کا قیام ملک کی بقا کے لیے ناگزیر ہے اور انتظامی بنیادوں پر نئے صوبے بنانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سندھ کے ظالم اور متعصب حکمران ہمارا وجود تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور شہری کوٹے پر جعلی ڈومیسائل بنا کر کراچی کے نوجوانوں کا حق مارا جا رہا ہے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ گزشتہ 18 سالوں میں پڑھے لکھے نوجوانوں کو ایک چپڑاسی کی نوکری تک نہیں دی گئی جبکہ اس عرصے کے دوران سندھ کو 22 ہزار ارب روپے ملے ہیں۔ دستاویز اور اعداد و شمار کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اتنی بڑی رقم سے 50 مرتبہ نیا سندھ بن سکتا تھا لیکن سندھ کے کرپٹ حکمرانوں نے اس پیسے سے دبئی، لندن اور امریکا میں جاگیریں بنا لیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ 6 ہفتے بعد شارع فیصل پر ہر زبان بولنے والا اپنا انتظامی یونٹ مانگنے کے لیے نکلے گا۔

ٹینکر مافیا اور شہر کے پانی کے مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ جن کا کام نلکے میں پانی دینا ہے وہی ٹینکرز چلا رہے ہیں، اور منشیات بیچنے والوں نے اپنا کاروبار بند کرکے پانی کا کام شروع کردیا ہے کیونکہ اس کام میں پکڑے جانے پر سینیٹر بن جایا جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جن لوگوں کا ٹینکرز کا کاروبار اربوں کا ہوگیا ہے وہ کیسے چاہیں گے کہ پانی نلکوں میں آئے، اور ٹینکرز کا کام کوئی غریب آدمی، ٹھیلے والا یا پان کی دکان والا نہیں کررہا بلکہ یہ سب اشرافیہ کے ٹینکر چل رہے ہیں۔