ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ضمانت درخواستیں واپس
دونوں ملزمان کے دستخط کرا کے دستاویزات فراہم کرنے سے انکار کیا، جس کے باعث ضمانت کی درخواستیں مکمل طور پر دائر نہیں ہوسکیں
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ضمانت درخواستیں واپس
اسلام آباد میں انسداد دہشت گردی عدالت نے تھانہ کوہسار احتجاج کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی جانب سے دائر ضمانت کی درخواستیں وکالت نامے موجود نہ ہونے کے باعث واپس کردی ہیں۔
اے ٹی سی جج طاہر عباس سپرا نے کیس کی سماعت کی۔ دورانِ سماعت ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی قانونی ٹیم نے اڈیالہ جیل حکام کے خلاف بھی درخواست دائر کی۔
وکلاء کا مؤقف تھا کہ جیل حکام نے وکالت ناموں پر دونوں ملزمان کے دستخط کرا کے دستاویزات فراہم کرنے سے انکار کیا، جس کے باعث ضمانت کی درخواستیں مکمل طور پر دائر نہیں ہوسکیں۔ عدالت نے جیل حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 24 ستمبر کو جواب طلب کرلیا۔
سماعت کے دوران جج طاہر عباس سپرا نے وکلا سے وکالت ناموں کی تصدیق سے متعلق استفسار کیا۔ وکیل زینب جنجوعہ نے بتایا کہ وہ جمعہ اور ہفتے کو دو مرتبہ اڈیالہ جیل حکام سے ملاقات کرچکی ہیں، تاہم انہیں بتایا گیا کہ وکالت نامے متعلقہ طریقہ کار کے تحت فراہم کیے جائیں گے۔
وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ زیرِ حراست ہیں اور وکیل مقرر کرنا ان کا بنیادی قانونی حق ہے۔ وکیل آصف تمبولی نے کہا کہ ایمان مزاری کی والدہ بھی عدالت میں موجود ہیں اور ضرورت پڑنے پر ان سے تصدیق کی جاسکتی ہے۔
جج طاہر عباس سپرا نے ریمارکس دیے کہ دستخط کے بغیر ضمانت کی درخواست وصول نہیں کی جاسکتی۔ وکیل آصف تمبولی نے عدالت سے کہا کہ وکالت نامے عدالت کے پاس رکھ لیے جائیں اور ان کی تصدیق بعد میں کرالی جائے۔
جج نے ریمارکس میں کہا کہ وکالت ناموں کے معاملے میں قانونی طریقہ کار پر عمل ہونا چاہیے اور جیل حکام سے معلوم کیا جائے گا کہ دستخط شدہ وکالت نامے فراہم کیوں نہیں کیے جا رہے۔
دورانِ سماعت ڈاکٹر شیریں مزاری نے الزام عائد کیا کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو جیل کے قانونی امور سے متعلق کمرے سے گرفتار کیا گیا اور گرفتاری کے وقت دونوں پر تشدد کیا گیا۔ تاہم یہ الزامات بھی متعلقہ فریق کی جانب سے عائد کیے گئے ہیں۔
سماعت میں وکلا راجہ زاہد، ایمل، آصف تمبولی اور زینب جنجوعہ سمیت ڈاکٹر شیریں مزاری اور ایمان مزاری کی والدہ بھی موجود تھیں۔
عدالت نے اڈیالہ جیل حکام کے خلاف درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہوئے 24 ستمبر کو جواب طلب کرلیا ہے۔