جوڈیشل کمیشن میں ڈاکٹر سمیعہ کی ہراسانی سے متعلق شکایت

ڈاکٹر اسامہ کمیشن کے سامنے تین مرتبہ پیش ہوچکے ہیں، تاہم گفتگو کا مکمل ریکارڈ پیش نہیں کیا گیا۔

September 23, 2026 · قومی
جوڈیشل کمیشن میں ڈاکٹر سمیعہ کی ہراسانی سے متعلق شکایت

جوڈیشل کمیشن میں ڈاکٹر سمیعہ کی ہراسانی سے متعلق شکایت

میر رضا کیس کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن میں پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ کی جانب سے ہراسانی اور منفی مہم سے متعلق جمع کرائی گئی شکایت کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔

شکایت میں ڈاکٹر سمیعہ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ڈاکٹر اسامہ نے ان کے ساتھ ہونے والی نجی گفتگو کے مبینہ طور پر ایڈٹ شدہ حصے جاری کرکے ان کی ساکھ متاثر کرنے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق ڈاکٹر اسامہ کمیشن کے سامنے تین مرتبہ پیش ہوچکے ہیں، تاہم گفتگو کا مکمل ریکارڈ پیش نہیں کیا گیا۔

ڈاکٹر سمیعہ کے مطابق نجی گفتگو کے بعض حصے مخصوص میڈیا چینلز اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو فراہم کیے گئے، جبکہ گفتگو کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیے جانے سے اصل معاملے سے توجہ ہٹنے کا خدشہ ہے۔

شکایت میں مزید کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر اسامہ عبوری پوسٹ مارٹم رپورٹ کو درست قرار دے رہے ہیں اور حتمی رپورٹ کو تسلیم نہیں کررہے۔ ڈاکٹر سمیعہ کے مطابق ڈاکٹر اسامہ کے بیانات سے ان کے طرزِ عمل سے متعلق بھی سوالات پیدا ہوتے ہیں۔

پولیس سرجن نے مؤقف اختیار کیا کہ ایک ڈاکٹر کی جانب سے کیے گئے پوسٹ مارٹم کے بعد کثیر رکنی میڈیکل بورڈ کی جانب سے دوبارہ کیے گئے پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کی اہمیت زیادہ ہوجاتی ہے اور سابقہ رپورٹ کی حیثیت ثانوی رہ جاتی ہے۔

ڈاکٹر سمیعہ نے یہ بھی کہا کہ گولی لگنے اور جسم سے نکلنے کے زخموں سے متعلق ڈاکٹر اسامہ کے ابتدائی نتائج سائنسی شواہد کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہیں۔

شکایت میں ڈاکٹر سمیعہ نے کمیشن سے کہا ہے کہ اگر اجازت دی جائے تو وہ ڈاکٹر اسامہ کے ساتھ ہونے والی گفتگو کا مکمل ریکارڈ کمیشن کے سامنے پیش کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ان کے مطابق مکمل گفتگو کا جائزہ لینے سے غلط فہمی یا بات کو مختلف انداز میں سمجھنے کے امکانات ختم ہوسکتے ہیں۔

دوسری جانب شکایت میں عائد کیے گئے مؤقف اور الزامات پر ڈاکٹر اسامہ کا مؤقف اس متن میں شامل نہیں ہے۔