پاکستان ریلویز نے پولیس سے ٹکٹ چیکنگ کی ذمہ داری واپس لے لی

ریلوے کمرشل اسٹاف کی مزاحمت پر قانونی پیچیدگیوں کے پیش نظر نوٹیفکیشن واپس لیا گیا

September 23, 2026 · قومی

پاکستان ریلویز نے پولیس سے ٹکٹ چیکنگ کی ذمہ داری واپس لے لی۔

 

 پولیس کو ٹکٹ چیکنگ کی ذمہ داری واپس لے لی گئی ہے اور اس ضمن میں باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ 17 ستمبر کو ریلوے پولیس کی طرف سے تمام تھانہ انچارجوں کو تمام ٹرینوں میں بلا ٹکٹ سفر کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی گئی، جس پر ریلوے کمرشل ڈیپارٹمنٹ نے شدید مزاحمت کی اور پولیس سے یہ ذمہ داری واپس لے لی گئی۔

ذمہ دار ذرائع کے مطابق ریلوے پولیس کو کمرشل اسٹاف کے اختیارات سونپے جانے پر ٹکٹ چیکرز اور کنڈکٹرزنے ٹرینوں کی چیکنگ روک دینے کا عملی مظاہرہ بھی کیا، جس سے ریلوے حکام نے قانونی پیچیدگیوں سے بچنے کے لیے پولیس سے یہ ذمہ داری واپس لے لی۔

اس ضمن میں جاری کیے جانے والے مراسلے میں بھی واضح کیا گیا ہے کہ ذمہ داری سونپنے کا نوٹیفکیشن قانونی پیچیدگیوں سے احتراز کے پیش نظر واپس لیا گیا ہے۔

ریل ذرائع کے مطابق اب ریلوے کے کمرشل اسٹاف نے پولیس ملازمین کے ساتھ اپنے رویے میں بھی تبدیلی کی ہے اور ریل کے ساتھ سفر کرنے والے اہلکاروں کو ان کے متعین کردہ اکانومی کلاس میں سفر تک محدود کردیا ہے، جبکہ اس سے پہلے پولیس اہلکار ایئر کنڈیشنڈ کلاس میں مکمل من مانی کے ساتھ سفر کرتے تھے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اب ٹرین ڈیوٹی کے ماسوا ٹرین پر بلا ٹکٹ سفر کرنے والے اہلکاروں کے ٹکٹ بھی جاری کیے جانے لگے ہیں۔

دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹرین میں سیکیورٹی ڈیوٹی دینے والے اہلکار اب ریلوے کے عملے کی خفیہ رپورٹیں بھی تیار کریں گے، جبکہ اس سے پہلے پولیس کے انٹیلیجنس ونگ کو اسٹیشنوں اور اثاثوں کے ساتھ بلا ٹکٹ پلیٹ فارموں پر آنے والوں کی نگرانی کی ذمہ داری بھی سونپی گئی تھی۔

اب اس انٹیلیجنس ڈیوٹی کو ریلوے کے رننگ اسٹاف کی انٹیلیجنس کی غیر اعلانیہ ذمہ داری بھی سونپی جارہی ہے۔ اس ضمن میں بعض ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ کسی حد تک یہ کام پہلے بھی جاری تھا۔