میر رضا کیس، شواہد ضائع ہونے اور میڈیکل بورڈ میں تبدیلیوں پر کمیشن کے سوالات
ابتدائی تحقیقات کے دوران شواہد ضائع ہوئے اور ذمہ داری ماتحت افسران پر ڈالنے کی کوشش کی گئی۔
میر رضا کیس، شواہد ضائع ہونے اور میڈیکل بورڈ میں تبدیلیوں پر کمیشن کے سوالات
کراچی: میر رضا قتل کیس کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن نے پہلی تفتیشی ٹیم کی کارکردگی اور میڈیکل بورڈ میں تبدیلیوں سے متعلق اہم سوالات اٹھا دیے۔
جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں ہونے والے کمیشن کے اجلاس کے دوران پہلی تفتیشی ٹیم کی جانب سے شواہد سے مبینہ طور پر درست طریقے سے نمٹنے میں ناکامی پر سوالات کیے گئے۔ کمیشن کے مطابق ابتدائی تحقیقات کے دوران شواہد ضائع ہوئے اور ذمہ داری ماتحت افسران پر ڈالنے کی کوشش کی گئی۔
کارروائی کے دوران جسٹس عمر سیال نے سیکرٹری صحت اور ڈی جی صحت سے میڈیکل بورڈ کی تشکیل اور اس میں کی جانے والی تبدیلیوں سے متعلق وضاحت طلب کی۔ کمیشن کے سربراہ نے مؤقف اختیار کیا کہ میر رضا کیس میں میڈیکل بورڈ کے معاملے میں مبینہ طور پر غیر قانونی مداخلت کی گئی۔
کمیشن کے مطابق ابتدائی تفتیش کے دوران 52 کیمروں میں سے صرف ایک کی فوٹیج حاصل کی گئی، جبکہ جائے وقوعہ کی جھاڑیوں کو بھی جلا دیا گیا، جس سے شواہد کے تحفظ پر سوالات پیدا ہوئے۔
جوڈیشل کمیشن نے سیکرٹری صحت طاہر حسین سانگی کو بھی طلب کیا اور ان سے مختلف امور پر وضاحت طلب کی۔ کمیشن نے دریافت کیا کہ دو گواہوں کی جانب سے ان کا نام لیے جانے کے بعد انہوں نے کب عہدہ سنبھالا اور ڈاکٹر اسامہ شیخ ان کے ماتحت آتے ہیں یا نہیں۔
طاہر حسین سانگی نے جواب دیا کہ ڈاکٹر اسامہ شیخ محکمہ صحت کے ماتحت ادارے سے وابستہ ہیں۔
جسٹس عمر سیال نے ریمارکس دیے کہ ڈاکٹر اسامہ کے اقدامات نہ صرف کمیشن کی ساکھ سے متعلق سوالات پیدا کر رہے ہیں بلکہ محکمہ صحت کو بھی متنازع بنا رہے ہیں۔
کمیشن کے سربراہ نے بتایا کہ امکان ہے کہ جوڈیشل کمیشن پیر تک کارروائی مکمل کرلے گا، جس کے بعد رپورٹ مرتب کرنے کا عمل شروع کیا جائے گا۔