تمام شواہد کے باوجود طالبان رجیم کا دہشت گردوں کی سرپرستی سے مسلسل انکار

ٹی ٹی پی کے افغانستان میں تقریباً 6 ہزار جنگجو موجود ہیں، جبکہ گروپ کی موجودگی خوست، کنڑ، ننگرہار، پکتیکا اور پکتیا سمیت مختلف علاقوں میں بتائی گئی ہے۔

September 25, 2026 · قومی
تمام شواہد کے باوجود طالبان رجیم کا دہشت گردوں کی سرپرستی سے مسلسل انکار

تمام شواہد کے باوجود طالبان رجیم کا دہشت گردوں کی سرپرستی سے مسلسل انکار

اسلام آباد: افغان طالبان کی جانب سے افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیوں سے متعلق الزامات کی تردید کے باوجود اقوام متحدہ کی مختلف رپورٹس میں افغانستان میں تحریک طالبان پاکستان سمیت دیگر عسکریت پسند گروہوں کی موجودگی اور سرگرمیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم کی رپورٹ کے مطابق ٹی ٹی پی کے افغانستان میں تقریباً 6 ہزار جنگجو موجود ہیں، جبکہ گروپ کی موجودگی خوست، کنڑ، ننگرہار، پکتیکا اور پکتیا سمیت مختلف علاقوں میں بتائی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان حکام کی رضامندی اور بعض مواقع پر حمایت کے ساتھ ٹی ٹی پی نے پاکستان کے خلاف حملوں میں اضافہ کیا۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ افغانستان میں ٹی ٹی پی کے بعض گروہوں کے القاعدہ کے ساتھ روابط موجود ہیں اور مختلف شدت پسند گروہوں کے درمیان تربیت اور لاجسٹک تعاون کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

اقوام متحدہ کی ایک اور رپورٹ کے مطابق افغانستان میں القاعدہ کی موجودگی بھی برقرار ہے، جبکہ ٹی ٹی پی کے علاوہ دیگر غیر ملکی دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیوں کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔ طالبان حکام افغانستان میں القاعدہ کی موجودگی سے متعلق بعض دعووں کو مسترد کرتے رہے ہیں۔

پاکستان مسلسل افغان عبوری حکومت سے مطالبہ کرتا رہا ہے کہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے اور مسلح گروہوں کے ٹھکانے ختم کیے جائیں۔ اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر پاکستان نے بھی ٹی ٹی پی کے افغانستان میں موجود مراکز اور سرحد پار حملوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے

دوسری جانب افغان طالبان پاکستان کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات کو مسترد کرتے اور افغانستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کا مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں۔

حالیہ مہینوں میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی اور عسکریت پسندوں کے حملوں کے باعث دونوں ممالک کے تعلقات میں تناؤ بھی بڑھا ہے۔ ستمبر 2026 میں پاکستان نے افغانستان کے بعض علاقوں میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، جبکہ افغان حکام نے کارروائیوں کی مذمت کی۔

پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغانستان میں موجود مسلح گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی اور سرحد پار دراندازی کی روک تھام خطے کے امن اور پاکستان کی سلامتی کے لیے ضروری ہے۔