پیٹرولیم لیوی اور آئی پی پیز کے خلاف کراچی میں احتجاجی کیمپس لگانے کا اعلان
منعم ظفر خان کا 20 لاکھ محضر نامے پر کروانے اور رابطہ عوام مہم کا اعلان
امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان ادارہ نورحق میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں۔
امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے جمعہ کے روز ادارہ نورحق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ پیٹرولیم لیوی ٹیکس کے خاتمے اور آئی پی پیز سے نجات کے مطالبات پر مبنی 20 لاکھ محضر نامے پر کروائے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں ہفتہ 26 ستمبر سے کراچی کے 25 مقامات پر احتجاجی کیمپس لگائے جائیں گے اور بڑے پیمانے پر رابطہ عوام مہم چلائی جائے گی۔
منعم ظفر خان نے کہا کہ مطالبات میں پیٹرولیم لیوی ختم کرنا، آئی پی پیز سے نجات دلانا اور روٹی 10 روپے کی کرنا شامل ہے۔ ان کے مطابق اگر حکومت پالیسی ریٹ میں 3 فیصد کمی کردے تو اس کے نتیجے میں تقریباً 1700 ارب روپے کا فائدہ ہوسکتا ہے اور عوام کو پیٹرولیم لیوی جیسے ٹیکس سے نجات دلانے میں مدد مل سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ نیپرا کے تشکیل کردہ ٹریبونل کے فیصلے کے نتیجے میں کے الیکٹرک کے بنیادی ٹیرف میں 7 روپے 60 پیسے کا فرق واقع ہوا ہے، جس سے حکومت کو 200 ارب روپے کا فائدہ ہوگا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ حکومت کو حاصل ہونے والا یہ فائدہ براہِ راست عوام کو منتقل کیا جائے اور بجلی کے بلوں میں کمی کی جائے۔
منعم ظفر خان نے کہا کہ شدید گرمی میں بچوں، بوڑھوں اور خواتین سمیت ہر شہری پریشان ہے، کراچی میں لوڈشیڈنگ ختم کی جائے۔ ان کے مطابق کراچی کا نصف حصہ پانی سے محروم ہے، کے فور منصوبہ تاحال نامکمل ہے جبکہ شہر کا انفرااسٹرکچر بھی تباہ حال ہے۔
انہوں نے کہا کہ ساڑھے پانچ سال سے ریڈ لائن منصوبہ شہریوں کے لیے عذاب بنا ہوا ہے، جبکہ گرین لائن منصوبہ 2022 سے نامکمل ہے اور نمائش سے آگے کے حصے کا کام بھی مکمل نہیں ہوسکا۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی حق دو کراچی تحریک جاری ہے۔
منعم ظفر خان نے پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کی مبینہ سیاسی کشمکش کو کراچی، اندرون سندھ اور پورے صوبے کے عوام کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا خمیازہ عوام بھگت رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ دنوں میں نیپرا نے کے الیکٹرک کی اپیل پر فیصلہ دیا ہے۔ ان کے مطابق کے الیکٹرک نے بنیادی ٹیرف میں اضافے کے معاملے پر پہلے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا، جس کے بعد نیپرا سے بھی رجوع کیا گیا۔ 2024 سے 2030 تک کے سات سالہ ملٹی ایئر ٹیرف میں بنیادی ٹیرف 32 روپے 37 پیسے سے بڑھا کر 39 روپے 97 پیسے کردیا گیا تھا، تاہم نیپرا کے فیصلے کے نتیجے میں اس میں 7 روپے 60 پیسے کی کمی واقع ہوئی ہے۔ ان کے مطابق نیپرا کے ریکارڈ میں 23 ستمبر 2026 کو کے الیکٹرک کے ڈسٹری بیوشن ملٹی ایئر ٹیرف سے متعلق نظرثانی فیصلے کی اطلاع بھی جاری کی گئی۔
امیر جماعت اسلامی کراچی نے کہا کہ کے الیکٹرک نے اس وقت مافیائی طرز اختیار کرلیا ہے اور اے ٹی اینڈ سی لاسز کے نام پر 18،18 گھنٹے بجلی کی لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بجلی چوری کرنے والوں کو پکڑنا کے الیکٹرک کی ذمہ داری ہے، اگر کسی علاقے میں 2 یا 3 فیصد لوگ بجلی کے بل ادا نہیں کررہے تو پوری آبادی کو سزا کیوں دی جائے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی کا بڑا علاقہ پانی سے محروم ہے، آئے روز پانی کی لائنیں پھٹ جاتی ہیں، حکومت کے فور منصوبے کو مکمل نہیں کررہی جبکہ آگمینٹیشن کا کام انتہائی سست رفتاری سے جاری ہے۔
منعم ظفر خان نے کہا کہ لاہور، ملتان اور راولپنڈی میں میٹرو بس منصوبے بالترتیب 11، 13 اور 20 ماہ میں مکمل کیے گئے، لیکن کراچی میں وفاق اور صوبے کی جانب سے منصوبوں میں تاخیر ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2016 میں شروع ہونے والا گرین لائن منصوبہ 2022 میں نمائش تک نامکمل چھوڑ دیا گیا۔ ایم اے جناح روڈ پر ترقیاتی کام کے باعث ٹریفک جام، دھول مٹی اور گڑھوں سے شہری مشکلات کا شکار ہیں، جبکہ صرف 1.8 کلومیٹر کی یہ شاہراہ تقریباً ایک سال سے مکمل نہیں ہوسکی۔ اسی طرح ساڑھے پانچ سال سے بی آر ٹی ریڈ لائن منصوبہ بھی شہریوں کے لیے مشکلات کا باعث بنا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جو آئی پی پیز ایک یونٹ بجلی بھی پیدا نہیں کررہے، حکومت انہیں کپیسٹی پیمنٹ کے نام پر اربوں ڈالر ادا کررہی ہے۔ ان کے مطابق جماعت اسلامی کی جدوجہد کے نتیجے میں حکومت نے 5 آئی پی پیز سے معاہدے ختم اور 22 سے معاہدوں پر نظرثانی کی، جس سے قومی خزانے کو 4300 ارب روپے کا فائدہ ہوا۔
منعم ظفر خان نے کہا کہ پیٹرولیم لیوی ٹیکس نے عوام کا جینا دوبھر کردیا ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ مالی سال میں پیٹرولیم لیوی کے نام پر پاکستانی عوام سے 1567 ارب روپے وصول کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے افراد سے بھی ٹیکس لیا جارہا ہے جن کی آمدنی قابلِ ٹیکس نہیں، جبکہ ملک میں ہر موٹر سائیکل سوار تقریباً ایک لیٹر پیٹرول پر روزانہ کم و بیش 131 روپے پیٹرولیم لیوی اور دیگر مدات میں ٹیکس حکومت کو ادا کررہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی پیٹرولیم لیوی اور دیگر حکومتی اقدامات کے خلاف اپنی تحریک جاری رکھے گی۔ ان کے مطابق جماعت اسلامی نے عوام پر عائد ٹیکسوں اور بجلی و پیٹرول کی قیمتوں کے خلاف ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کی، جس کے سلسلے میں 7 اگست کو پورے پاکستان میں 510 شاہراہیں بند کی گئیں، 16 اگست سے 42 شہروں میں دھرنوں کا آغاز کیا گیا، 3 ستمبر کو ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی جبکہ 20 ستمبر سے کراچی سے ٹرین مارچ کا آغاز ہوا۔
منعم ظفر خان نے بتایا کہ ٹرین مارچ مختلف شہروں سے ہوتا ہوا ملتان پہنچا ہے جہاں پڑاؤ جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم لیوی ٹیکس کے خاتمے تک جدوجہد جاری رہے گی۔
پریس کانفرنس میں نائب امیر جماعت اسلامی و اپوزیشن لیڈر کے ایم سی سیف الدین ایڈووکیٹ اور سیکریٹری اطلاعات زاہد عسکری بھی موجود تھے۔