لانگ مارچ میں نکلے تو کرپٹ نظام اور جعلی حکمرانوں کا بندوبست کریں گے،سہیل آفریدی
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا لانگ مارچ روکنے کے وفاقی اقدامات پر تشویش اور سخت ردعمل
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی لانگ مارچ اور وفاقی اقدامات سے متعلق اظہار خیال کر رہے ہیں۔
خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے لانگ مارچ روکنے کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے کیے گئے اقدامات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس دفعہ جب نکلیں گے تو کرپٹ نظام اور جعلی حکمرانوں کا ہمیشہ کے لیے بندوبست کریں گے۔
محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی باؤنڈری پر کیلیں گاڑھنے کا مطلب ہے کہ اس صوبے کو باقی پاکستان سے کاٹنے کی سازش ہورہی ہے، جو انتہائی تشویش ناک اور خطرناک پیغام ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا صوبے کے عوام یہ سمجھیں کہ خیبرپختونخوا کو باقی پاکستان سے کاٹنے کی کسی سازش پر باقاعدہ کام شروع کردیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک طرف مسلسل یہ بیانیہ بنایا جاتا رہا کہ پاکستان کو بھارت سے خطرہ نہیں بلکہ باقی تین صوبوں سے خطرہ ہے، دوسری طرف خیبرپختونخوا کے عوام کو مسلسل دہشت گرد اور جنگلی قرار دینے کا بیانیہ چلایا گیا۔ ان کے مطابق صوبے کی حدود کے اندر سڑکوں میں کیلیں گاڑھنا اسی سلسلے کی ایک انتہائی خطرناک کڑی ہے، تاہم یہ کیلیں ان کے جعلی نظام کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوں گی۔
وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ پاکستان کسی صورت نہیں ٹوٹے گا اور ہم پاکستان کو بچائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ دوسرے صوبے کے سرکاری اہلکار خیبرپختونخوا میں داخل ہوکر صوبے کے سرکاری اہلکاروں سے گتھم گتھا ہورہے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا خیبرپختونخوا کی انتظامیہ اور پولیس پر اعتماد ختم ہوچکا ہے یا خیبرپختونخوا میں کسی دوسرے صوبے کی پولیس اور انتظامیہ لانچ کی جارہی ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے پارلیمانی لیڈر اور وزیر اطلاعات کو میڈیا پر بند کردیا گیا ہے جبکہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کی کوریج سے بھی میڈیا کو روکنے کی اطلاعات ملی ہیں۔ ان کے مطابق ریاست پاکستان پر قابض لوگ جو غلط پالیسیاں نافذ کرنے کی کوشش کررہے ہیں، وہ انتہائی خطرناک ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے وزرا کو سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد کے ذریعے اغوا کیا جارہا ہے، کبھی وزرا پر گولی چلائی جاتی ہے اور کبھی انہیں اغوا کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق یہ تمام اقدامات ملک کو ایک خطرناک سمت میں لے جارہے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہمارا لانگ مارچ ہر صورت ہوگا اور یہ پرامن ہوگا۔ سڑکوں پر کیلیں ٹھوکیں، کنٹینرز رکھیں یا گولیاں چلائیں، ہم نکلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس دفعہ جب نکلیں گے تو کرپٹ نظام اور جعلی حکمرانوں کا ہمیشہ کے لیے بندوبست کریں گے اور آئندہ کا لائحہ عمل جلد میڈیا کے سامنے رکھا جائے گا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ ریاستی اداروں اور حکمرانوں کو سیاست میں اتنا نہیں گرنا چاہیے کہ کل ایک دوسرے سے آنکھ ملانے کے قابل نہ رہیں۔
انہوں نے کہا کہ جس سیکریٹریٹ کو تھریٹ کا بہانہ بنا کر بند کیا گیا، وہ خود وہاں گئے اور چہل قدمی کی۔ اسی طرح جس مسجد کو تھریٹ کے نام پر بند کیا گیا وہاں جاکر خود نماز ادا کی۔ ان کے مطابق کوئی تھریٹ نہیں تھا بلکہ جعلی تھریٹس کے ذریعے پورے صوبے کا نظام بند کروایا گیا۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ سیکریٹریٹ کینٹ کے اندر ہے اور کینٹ مکمل طور پر ان کے قبضے میں ہے۔ اگر کینٹ سے سیکریٹریٹ تک دہشت گرد پہنچ سکتا ہے تو قانون نافذ کرنے والے ادارے تنخواہیں کس کام کی لے رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کی دلچسپی صرف خیبرپختونخوا کے وزرا کو پکڑنے اور پاکستان تحریک انصاف کو ختم کرنے میں ہے۔
محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ اگر یہ سمجھتے ہیں کہ ان ہتھکنڈوں سے وہ ہمیں ڈرا دیں گے یا اپنے مقصد سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیں گے تو یہ ان کی غلط سوچ ہے۔