پنجاب میں دفعہ 144 کا نفاذ لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج
پنجاب میں دفعہ 144 کا حالیہ نفاذ بظاہر 27 ستمبر کو ہونے والے پی ٹی آئی کے احتجاج اور دھرنے کو روکنے کے لیے کیا گیا ہے۔
پنجاب میں دفعہ 144 کا نفاذ لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج
پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا گیا ہے۔ اس حوالے سے پاکستان تحریک انصاف کے ارکان صوبائی اسمبلی اور دیگر درخواست گزاروں نے عدالت سے رجوع کیا ہے۔
درخواست پی ٹی آئی کے رکن صوبائی اسمبلی محمد اعجاز شفیع، شیخ امتیاز محمود اور دیگر کی جانب سے محمد اظہر صدیق ایڈووکیٹ کے توسط سے دائر کی گئی۔
درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ پنجاب میں دفعہ 144 کا حالیہ نفاذ بظاہر 27 ستمبر کو ہونے والے پی ٹی آئی کے احتجاج اور دھرنے کو روکنے کے لیے کیا گیا ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کسی مخصوص ضلع، مقام یا واضح خطرے کی نشاندہی نہیں کی گئی۔ درخواست گزاروں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ دفعہ 144 کے نفاذ کی قانونی بنیاد اور اس حوالے سے حکومتی ریکارڈ عدالت کے سامنے پیش کرنے کا حکم دیا جائے۔
درخواست میں مزید مؤقف اپنایا گیا ہے کہ پُرامن اجتماعات اور سیاسی سرگرمیوں پر پابندی شہریوں کے بنیادی آئینی حقوق سے متصادم ہے۔ درخواست گزاروں نے عدالت سے پُرامن اور غیر مسلح اجتماعات پر عائد پابندی معطل کرنے کی بھی استدعا کی ہے۔
درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پُرامن سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی بنیاد پر شہریوں کی گرفتاری، نظر بندی یا مقدمات کے اندراج سے روکا جائے۔