اسلام آباد کو احتجاج کی سیاست سے نجات دلائیں گے، رانا ثنا
حکومت کی پالیسی کے تحت اسلام آباد میں احتجاج کے نام پر کسی بھی قسم کی بدنظمی کی اجازت نہیں ہوگی
اسلام آباد کو احتجاج کی سیاست سے نجات دلائیں گے، رانا ثنا
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ حکومت نے اسلام آباد میں احتجاج اور دھرنوں سے متعلق پالیسی واضح کردی ہے اور دارالحکومت میں کسی کو زبردستی داخل ہونے یا عوامی نظام متاثر کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ حکومت کی پالیسی کے تحت اسلام آباد میں احتجاج کے نام پر کسی بھی قسم کی بدنظمی کی اجازت نہیں ہوگی۔ ان کے مطابق حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان پس پردہ رابطے جاری رہے ہیں، تاہم ان کا کہنا تھا کہ احتجاج کا اعلان برقرار رہنے تک باضابطہ مذاکرات آگے نہیں بڑھ سکتے۔
دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ سے متعلق حکومت کا مؤقف دہراتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ایسے گروہ کو اسلام آباد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی جو تشدد یا سڑکوں کی بندش کا باعث بنے۔
عطا اللہ تارڑ نے خیبر پختونخوا حکومت پر دہشت گردی کے معاملے میں مؤثر اقدامات نہ کرنے کے الزامات بھی عائد کیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ صوبے میں بعض عناصر کو سہولت فراہم کی جارہی ہے، تاہم یہ الزامات سیاسی نوعیت کے ہیں۔
اس سے قبل اسلام آباد ہائیکورٹ اپنے تفصیلی فیصلے میں قرار دے چکی ہے کہ کسی سیاسی جماعت کو عوامی سڑکوں، شاہراہوں یا دیگر عوامی مقامات پر قبضہ کرنے کا قانونی حق حاصل نہیں، جبکہ شہریوں کے بنیادی حقوق اور آمدورفت متاثر نہیں ہونی چاہیے۔
حکومت نے احتجاج کے پیش نظر اسلام آباد اور پنجاب کے مختلف اضلاع میں رینجرز کی تعیناتی بھی کی ہے، جبکہ پی ٹی آئی نے اپنا 27 ستمبر کا مارچ مؤخر کرکے 4 اکتوبر کو پشاور سے شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔