گڈز ٹرانسپورٹرز کا روکی گئی گاڑیوں کے معاوضے کا مطالبہ
لاہور سے مزید تقریباً 200 گاڑیاں پکڑ کر اسلام آباد منتقل کی گئی ہیں، جبکہ ان کے کنٹینرز بھی اتارے جا رہے ہیں
گڈز ٹرانسپورٹرز کا روکی گئی گاڑیوں کے معاوضے کا مطالبہ( فائل فوٹو)
گڈز ٹرانسپورٹرز نے حکومت سے احتجاج کے دوران تحویل میں لی گئی گاڑیوں اور کنٹینرز کے مالکان کو مناسب معاوضہ ادا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اونرز ایسوسی ایشن کے صدر محمد اویس چوہدری ایڈووکیٹ کے مطابق سیاسی احتجاج مؤخر کیے جانے کے باوجود مختلف شہروں میں متعدد تجارتی گاڑیاں اب بھی تحویل میں ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ لاہور سے مزید تقریباً 200 گاڑیاں پکڑ کر اسلام آباد منتقل کی گئی ہیں، جبکہ ان کے کنٹینرز بھی اتارے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق مختلف شہروں سے تحویل میں لی گئی گاڑیوں کی مجموعی تعداد 2500 سے زیادہ ہوچکی ہے۔
محمد اویس چوہدری کا کہنا تھا کہ ٹرانسپورٹرز گزشتہ دو ہفتوں سے زائد عرصے سے حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ سامان سے لدی گاڑیوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور خالی گاڑیوں کے مالکان کو ان کے نقصان کا مناسب معاوضہ دیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومتی وزرا کی جانب سے معاوضے کی ادائیگی سے متعلق بیانات سامنے آئے ہیں، اس لیے 2013 سے اب تک ٹرانسپورٹرز کو ادا کی گئی رقوم کا شفاف آڈٹ اور معاملے کی تحقیقات بھی ہونی چاہئیں۔
صدر ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا کہ معاوضہ کسی ایسوسی ایشن، ٹھیکیدار یا تیسرے فریق کے ذریعے دینے کے بجائے براہ راست ان گاڑیوں کے مالکان کو ادا کیا جائے جو تحویل میں لی گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بڑی تعداد میں گاڑیوں کے روکے جانے سے سامان کی ترسیل اور رسد کا نظام متاثر ہو رہا ہے جبکہ ٹرانسپورٹرز کو مالی مشکلات کا سامنا ہے۔
محمد اویس چوہدری نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ روکی گئی گاڑیوں کی رہائی اور معاوضے کے معاملے کو فوری طور پر حل کیا جائے تاکہ ٹرانسپورٹرز کے نقصانات کم کیے جا سکیں۔ حالیہ حکومتی سطح کی ملاقاتوں میں بھی روکی گئی گاڑیوں کی رہائی اور معاوضے سے متعلق یقین دہانیاں سامنے آئی ہیں۔