نورستان میں طالبان اور فریڈم فرنٹ آمنے سامنے، متعدد چوکیوں پر قبضے کا دعویٰ

فرنٹ نے 23 ستمبر کو کابل، بگرام شاہراہ پر طالبان کی ایک فوجی گاڑی اور 24 ستمبر کو سرپل میں طالبان کے ایک اجتماع کو نشانہ بنانے کا بھی دعویٰ کیا تھا

September 27, 2026 · قومی
نورستان میں طالبان اور فریڈم فرنٹ آمنے سامنے، متعدد چوکیوں پر قبضے کا دعویٰ(فائل فوٹو)

نورستان میں طالبان اور فریڈم فرنٹ آمنے سامنے، متعدد چوکیوں پر قبضے کا دعویٰ(فائل فوٹو)

کابل: افغانستان میں طالبان کے خلاف مسلح مزاحمتی کارروائیوں میں تیزی آنے کی اطلاعات ہیں، جہاں نورستان اور کنڑ کے مختلف علاقوں میں طالبان اور افغانستان فریڈم فرنٹ کے درمیان شدید جھڑپیں جاری ہیں۔

افغانستان فریڈم فرنٹ کے مطابق نورستان کے ضلع کامدیش میں طالبان فورسز نے اس کی پوزیشنوں پر زمینی دستوں اور ڈرونز کے ذریعے حملہ کیا، جس کے بعد مزاحمتی فورسز نے جوابی کارروائی کی۔ فرنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس دوران طالبان کی متعدد چوکیاں ان کے قبضے میں آگئیں اور طالبان اہلکاروں کو بعض علاقوں سے پیچھے ہٹنا پڑا۔

رپورٹس کے مطابق لڑائی نورستان کے کامدیش کے علاوہ پڑوسی صوبے کنڑ کے ضلع ناری تک بھی پھیل گئی ہے۔ مقامی سطح پر بھی فائرنگ اور جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ طالبان سے منسلک ذرائع نے بھی علاقے میں کارروائیوں کی تصدیق کی ہے۔ تاہم دونوں جانب سے ہونے والے جانی نقصان اور علاقے پر مکمل کنٹرول سے متعلق دعووں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔

افغانستان فریڈم فرنٹ کی جانب سے ستمبر کے دوران کابل، سرپل، کنڑ اور دیگر علاقوں میں بھی طالبان اہداف کے خلاف کارروائیوں کے دعوے کیے گئے ہیں۔ فرنٹ نے 23 ستمبر کو کابل، بگرام شاہراہ پر طالبان کی ایک فوجی گاڑی اور 24 ستمبر کو سرپل میں طالبان کے ایک اجتماع کو نشانہ بنانے کا بھی دعویٰ کیا تھا

دوسری جانب افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ، جس کی قیادت سابق افغان فوجی کمانڈر سمیع سادات کرتے ہیں، نے بھی گزشتہ ماہ طالبان کے خلاف متعدد کارروائیوں کا دعویٰ کیا تھا۔ گروپ کے مطابق اگست کے دوران 14 صوبوں میں 43 کارروائیاں کی گئیں، تاہم ان کی جانب سے بیان کردہ ہلاکتوں کے اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔

افغانستان میں طالبان مخالف گروہوں کی سرگرمیوں میں اضافے کی نشاندہی اقوام متحدہ کی ایک حالیہ رپورٹ میں بھی کی گئی ہے، جس کے مطابق یکم مئی سے جولائی کے اختتام تک طالبان مخالف مسلح گروہوں نے 21 صوبوں میں 88 حملوں کی ذمہ داری قبول کی۔