احسن بون اور کیپٹن صفدر کا تنازعہ شدت اختیار کر گیا
کیپٹن صفدر نے وکیل رہنما کے خلاف سائبر کرائمز میں درخواست دائر کیوں کی؟ تفصیل سامنے آگئی
احسن بون اور کیپٹن صفدر کا تنازعہ شدت اختیار کر گیا( فائل فوٹو)
لاہور: احسن بھون کی تعلیمی ڈگری پر کیپٹن (ر) صفدر کے سوال سے شروع ہونے والا تنازع اب قانونی محاذ تک پہنچ گیا ہے، دونوں جانب سے سخت بیانات کے بعد کیپٹن صفدر نے وکیل میاں داؤد کے خلاف این سی سی آئی اے سے رجوع کرلیا، جبکہ احسن بھون نے بھی معاملہ عدالت میں لے جانے کا اعلان کردیا ہے۔
نامور قانون دان اور سپریم کورٹ بار کے سابق صدر احسن بھون نے کیپٹن صفدر کی جانب سے جعلی ڈگری کے الزام پر شدید رد عمل ظاہر کرتے ہوئے انہیں عدالت میں لانے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ اب بیچ میں کوئی نہ آئے۔واضح رہے کہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما کیپٹن (ر) صفدر کی جانب سے نامور قانون دان اور جوڈیشل کمیشن کے رکن احسن بھون کی تعلیمی اسناد اور ڈگری کی تصدیق کا مطالبہ کیا گیا، جس نے سیاسی اور قانونی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ کیپٹن صفدر کے اس بیان پر وکلاء برادری کی جانب سے شدید ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔
معروف وکیل میاں داؤد سمیت دیگر قانونی شخصیات نے احسن بھون کا دفاع کرتے ہوئے کیپٹن صفدر کے اپنے تعلیمی اور ذاتی دستاویزات پر سوالات اٹھا دیے ہیں اوردونوں جانب سے سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔ میاں داؤد نے کیپٹن صفدر کے ماضی کے حوالے سے بھی سخت ریمارکس دیے ہیں جبکہ وکلاء برادری اور احسن بھون کے حامیوں کی جانب سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ کیپٹن (ر) صفدر کو ایسے بیانات دینے سے روکیں۔
تنازعہ شدت اختیار کر گیا ، مسلم لیگ (ن) کے رہنما کیپٹن (ر) محمد صفدر اعوان نے ایڈووکیٹ میاں داؤد کے خلاف نیشنل سائبر کرائمز انویسٹی گیشن ایجنسی میں درخواست دائر کر دی ہیں،،،کیپٹن صفدر نے میاں داؤد پر سوشل میڈیا پر ان کے خلاف توہین آمیز مواد شیئر کرنے، کردار کشی کرنے اور ان کی نجی و ازدواجی زندگی (بشمول نکاح نامہ) پر گمراہ کن حملے کرنے کا الزام لگایا ہے
۔یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب کیپٹن صفدر نے ایک میڈیا گفتگو کے دوران پاکستان بار کونسل کے رکن احسن بھون کی ایل ایل بی کی ڈگری کی تصدیق کا مطالبہ کیا تھا۔ اس کے جواب میں میاں داؤد ایڈووکیٹ نے مبینہ طور پر قانونی بحث کرنے کی بجائے کیپٹن صفدر کی ذاتی زندگی اور نکاح نامے سے متعلق انتہائی سخت بیانات جاری کیے
کیپٹن صفدر نے NCCIA سے اپیل کی ہے کہ پیکا ایکٹ کے تحت ڈیجیٹل اور الیکٹرانک شواہد کو فوری طور پر محفوظ کیا جائے، متعلقہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی ملکیت کی تصدیق کی جائے اور میاں داؤد کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ واضح رہے کہ میاں داؤد ایڈووکیٹ نے اپنے ایک بیان میں کیپٹن صفدر اور ان کی اہلیہ کی ازدواجی معاملات پر گفتگو کی تھی ،،،