لاہور میں غیر ملکی خاتون سے مبینہ زیادتی کا معاملہ، متاثرہ ڈیانا سخت سیکیورٹی میں عدالت پیش
اہم پیش رفت، جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبرو بیان، ملزمان کی تلاش جاری
کراچی: وکلا کا 10 ستمبر کو عدالتی کام معطل رکھنے کا اعلان
لاہور کے علاقے ڈیفنس میں غیر ملکی خاتون سے مبینہ اجتماعی زیادتی کے معاملے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں متاثرہ غیر ملکی خاتون ڈیانا کو سخت سیکیورٹی کے حصار میں کینٹ کچہری کی عدالت میں پیش کر دیا گیا ہے۔ جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبرو متاثرہ خاتون کا ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت بیان قلمبند کیا جا رہا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق اس سنگین واقعے کا مقدمہ تھانہ ڈیفنس سی میں درج کیا گیا ہے جبکہ تفتیش کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے اب تک متعدد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔
پولیس ذرائع اور تفتیشی دستاویزات کے مطابق متاثرہ غیر ملکی خاتون گزشتہ کچھ روز سے کاروباری سلسلے میں پاکستان میں مقیم تھیں۔ سامنے آنے والی ٹریول ہسٹری سے یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ خاتون رواں برس اس سے قبل بھی دو مرتبہ پاکستان آ چکی ہیں اور ان کا لاہور اور فیصل آباد میں کپڑے کے کاروبار کے سلسلے میں آنا جانا تھا۔ پولیس ذرائع کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ متاثرہ خاتون کو مبینہ طور پر ایک کیفے میں لے جایا گیا جہاں سے انہیں فلیٹ پر منتقل کر کے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمے میں نامزد مرکزی ملزمان احمد تنویر، علی اور محسن کی گرفتاری کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ مرکزی ملزمان کی سہولت کاری کے شبے میں ان کے چند رشتہ داروں سمیت دیگر افراد کو بھی حراست میں لے کر تفتیش کی جا رہی ہے تاکہ حاصل ہونے والے شواہد کی روشنی میں اصل ملزمان کو جلد قانون کی گرفت میں لایا جا سکے گا۔