وفاقی شرعی عدالت نے دفتر میں خواتین کی ہراسانی پر نئی تشریح کردی

2010 کے قانون کے تحت قابلِ کارروائی ہراسمنٹ کے لیے جنسی نوعیت یا جنسی پہلو کا موجود ہونا ضروری

September 29, 2026 · قومی
وفاقی شرعی عدالت نے دفتر میں خواتین کی ہراسانی پر نئی تشریح کردی

وفاقی شرعی عدالت نے دفتر میں خواتین کی ہراسانی پر نئی تشریح کردی

وفاقی آئینی عدالت نے کام کی جگہ پر ہراسمنٹ سے متعلق قانون کی تشریح کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ 2010 کے قانون کے تحت قابلِ کارروائی ہراسمنٹ کے لیے جنسی نوعیت یا جنسی پہلو کا موجود ہونا ضروری ہے۔

عدالت کے مطابق محض بدتمیزی، نامناسب رویے، توہین آمیز برتاؤ یا کسی ملازم کے ساتھ غلط سلوک کو اس قانون کے تحت ہراسمنٹ نہیں کہا جاسکتا، جب تک اس طرزِ عمل میں جنسی عنصر موجود نہ ہو۔ ایسے معاملات وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسیت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے۔

وفاقی آئینی عدالت کی یہ تشریح سپریم کورٹ کے 2023 کے فیصلے سے مختلف ہے، جس میں جسٹس عائشہ ملک کی سربراہی میں عدالت نے قرار دیا تھا کہ کام کی جگہ پر ہراسیت کو صرف جنسی نوعیت تک محدود نہیں کیا جاسکتا بلکہ جنس کی بنیاد پر امتیاز، توہین آمیز رویہ اور ایسا ماحول بھی اس کے دائرے میں آسکتا ہے جو ملازم کے لیے دشمنانہ یا ناموافق ہو۔

موجودہ تشریح کے مطابق 2010 کے قانون کی متعلقہ شق میں ہراسیت کی قابلِ کارروائی تعریف کو محدود دائرے میں سمجھا جائے گا اور ہر قسم کا نامناسب یا ناخوشگوار رویہ اس قانون کے تحت کارروائی کی بنیاد نہیں بن سکتا۔

عدالتی تشریح میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ قانون میں درج تعریف کو اس کی مخصوص قانونی حدود کے اندر رہتے ہوئے نافذ کیا جائے۔ وفاقی آئینی عدالت پہلے بھی واضح کرچکی ہے کہ موجودہ آئینی نظام کے تحت آئینی تشریح کے معاملات میں اس کے فیصلوں کی خصوصی اہمیت ہے۔

یوں ورک پلیس ہراسمنٹ سے متعلق قانون کی تشریح کے حوالے سے وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے سابقہ مؤقف میں نمایاں فرق سامنے آگیا ہے۔