گورنر راج کے لیے تمام عناصر موجود ہیں، اختیار ولی

موجودہ صورتحال برقرار رہی تو خیبر پختونخوا اسمبلی تحلیل ہونے اور وسط مدتی انتخابات کی طرف جانے کی نوبت آسکتی ہے

September 29, 2026 · قومی
گورنر راج کے لیے تمام عناصر موجود ہیں، اختیار ولی

گورنر راج کے لیے تمام عناصر موجود ہیں، اختیار ولی

خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے معاملے پر وفاقی حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان اختلافات مزید نمایاں ہوگئے ہیں۔ وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے اطلاعات اختیار ولی نے دعویٰ کیا ہے کہ صوبے میں گورنر راج کے لیے درکار تمام عوامل موجود ہیں، جبکہ تحریک انصاف کا مؤقف ہے کہ صوبے میں آئینی نظام معمول کے مطابق کام کررہا ہے۔

اختیار ولی نے ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال برقرار رہی تو خیبر پختونخوا اسمبلی تحلیل ہونے اور وسط مدتی انتخابات کی طرف جانے کی نوبت آسکتی ہے۔ ان کے مطابق گورنر راج سمیت آئینی راستوں پر بات ہوسکتی ہے۔

دوسری جانب تحریک انصاف کے رہنما شوکت یوسفزئی نے گورنر راج کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام اس وقت زیرِ بحث آتا ہے جب صوبے میں آئینی مشینری کام کرنا چھوڑ دے، جبکہ ان کے مطابق خیبر پختونخوا میں آئینی نظام فعال ہے۔ انہوں نے وفاقی حکومت سے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے پر بھی زور دیا۔

اس معاملے پر وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے بھی کہا ہے کہ فی الحال گورنر راج نافذ نہیں کیا جارہا، البتہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا آپشن زیر غور ہے اور اس حوالے سے حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔

یوں خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے معاملے پر مختلف حکومتی اور اپوزیشن رہنماؤں کے بیانات سامنے آرہے ہیں، جبکہ آئندہ سیاسی اور آئینی اقدامات کے حوالے سے صورتحال ابھی واضح نہیں ہوئی۔