لاہور میں غیرملکی لڑکی سے اجتماعی زیادتی کیس میں سہولت کار خاتون بھی گرفتار
اہم پیش رفت، عدالتی ریکارڈ میں اہم انکشافات، تفتیش کا دائرہ کار وسیع کر دیا گیا- مرکزی ملزم تنویر تاحال مفرور
لاہور میں غیرملکی لڑکی سے اجتماعی زیادتی کیس میں سہولت کار خاتون بھی گرفتار
لاہور کے پوش علاقے ڈیفنس میں آذربائیجان سے تعلق رکھنے والی 20 سالہ غیر ملکی لڑکی ڈیانا سے مبینہ اجتماعی زیادتی کے کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے جرم میں سہولت کاری کرنے والی ایک اور خاتون مسکان کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ دوسرے مرکزی ملزم علی کو بھی چشتیاں سے حراست میں لیا جا چکا ہے تاہم مرکزی ملزم تنویر تاحال مفرور ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق اس کیس کا ایک اور ملزم محسن پہلے ہی پولیس کی تحویل میں ہے جبکہ تیسرے نامزد ملزم تنویر کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ انویسٹی گیشن پولیس نے گرفتار ملزم علی کو چشتیاں سے لاہور منتقل کر دیا ہے اور دونوں گرفتار ملزمان سے سخت تفتیش جاری ہے۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق متاثرہ غیر ملکی خاتون ڈیانا کا دفعہ 164 کے تحت بیان بھی سامنے آ گیا ہے جس میں اس نے واقعے کی تمام تفصیلات عدالت کے روبرو بیان کی ہیں۔ عدالتی کارروائی کے دوران مجسٹریٹ کے سامنے دیے گئے بیان میں ڈیانا نے بتایا کہ وہ 13 ستمبر کو استنبول سے اسلام آباد پہنچی تھی اور فیصل آباد میں 5 روز قیام کے بعد لاہور آئی تھی۔ اس نے عدالت کو بتایا کہ اس کا ارادہ اسکردو جانے کا تھا مگر اکیلی ہونے کے باعث اس نے نمرہ اور مسکان نامی لڑکیوں سے رابطہ کیا تھا۔
متاثرہ لڑکی کے بیان کے مطابق وہ رات کو ایک کیفے میں گئی جہاں مسکان اور نمرہ موجود تھیں، اور بعد میں اسے بحریہ ٹاؤن لے جایا گیا جہاں ایک اپارٹمنٹ میں اسے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ بیان کے مطابق ملزمان نے اس کا قیمتی سامان، آئی فون 13 پرو میکس، ریڈمی موبائل فون اور 2 لاکھ پاکستانی روپے بھی زبردستی اپنے پاس رکھ لیے اور پولیس میں شکایت نہ کرنے کی دھمکیاں دیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ شواہد کی روشنی میں کیس کی مزید تفتیش جاری ہے اور تمام ملوث ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔