18ویں ترمیم پر تحفظات، نئے انتظامی یونٹس ناگزیر ہیں، علی خورشیدی
کراچی میں بنیادی سہولیات اور شہری مسائل کی صورتحال پر تشویش پائی جاتی ہے، اس لیے موجودہ طرز حکمرانی میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔
18ویں ترمیم پر تحفظات، نئے انتظامی یونٹس ناگزیر ہیں، علی خورشیدی(فائل فوٹو)
کراچی: سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف علی خورشیدی نے کہا ہے کہ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد اختیارات صوبوں کو منتقل ہونے کے باوجود عوامی مسائل حل نہیں ہوسکے، اس لیے ملک میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام پر غور ضروری ہے۔
جامعہ کراچی میں اے پی ایم ایس او کے زیر اہتمام جشن اردو کی تقریب کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علی خورشیدی نے کہا کہ تقریب میں مشاعرہ، بیت بازی اور مکالمے سمیت مختلف پروگرام منعقد کیے گئے ہیں، جبکہ اردو قومی زبان ہونے کی وجہ سے یہ ایونٹ خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تقریب میں بیت بازی کے لیے بھی انتظامی یونٹس کا موضوع رکھا گیا ہے۔ ان کے مطابق کراچی میں بنیادی سہولیات اور شہری مسائل کی صورتحال پر تشویش پائی جاتی ہے، اس لیے موجودہ طرز حکمرانی میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔
علی خورشیدی کا کہنا تھا کہ جمہوری نظام میں عوام کو مؤثر اختیارات ملنے چاہئیں اور نوجوانوں کے مسائل پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کی مخالفت محض دو سیاسی جماعتوں تک محدود نہیں بلکہ اس معاملے پر مختلف سیاسی مفادات موجود ہیں۔
ایم ڈی کیٹ کے نتائج اور تعلیمی صورتحال پر بات کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر نے کراچی کے تعلیمی نظام اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ میٹرک اور انٹرمیڈیٹ بورڈز میں بے قاعدگیوں سے متعلق رپورٹس سامنے آنے کے باوجود مؤثر کارروائی نظر نہیں آئی۔
علی خورشیدی نے یونیورسٹی روڈ کی صورتحال پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس سڑک کی تعمیر اور ترقیاتی کاموں کی وجہ سے طلبہ کو مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اورنج لائن منصوبے پر بھی طویل عرصے سے بات کی جارہی ہے، تاہم شہریوں کو عملی سہولت ملنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اسکول اسپیسفک بجٹ کے لیے 22 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، اس لیے یہ رقم اسکولوں کی ضروریات پر خرچ ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق سندھ میں حکمرانی کے موجودہ طریقہ کار میں بہتری کی ضرورت ہے۔
جامعہ کراچی میں عارضی انتظامی نظام سے متعلق سوال پر علی خورشیدی نے کہا کہ مختلف اداروں میں مستقل انتظامی فیصلوں کے بجائے عارضی انتظامات سے کام چلایا جارہا ہے، جس کے باعث گورننس ماڈل میں تبدیلی ضروری ہوگئی ہے۔
پیٹرول کی قیمتوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ عوام کے لیے ایک مسئلہ ضرور ہے، تاہم اس کا تعلق بین الاقوامی حالات سے بھی ہے اور وہ دعا کرتے ہیں کہ عالمی معاملات میں بہتری آئے۔