23 برس بعد عراق سے امریکی فوج کا مکمل انخلا

عراق سے امریکی فوجی موجودگی کا آغاز 2003 میں امریکی حملے کے بعد ہوا تھا۔

September 30, 2026 · بام دنیا
23 برس بعد عراق سے امریکی فوج کا مکمل انخلا(فائل فوٹو)

23 برس بعد عراق سے امریکی فوج کا مکمل انخلا(فائل فوٹو)

عراق میں دو دہائیوں سے زائد عرصے تک موجود رہنے کے بعد امریکی فوج نے ملک سے اپنا آخری دستہ بھی واپس نکال لیا۔ امریکی فوجی اور اتحادی اہلکاروں کی باقی ماندہ نفری کو عراق سے نکال کر اردن منتقل کیا گیا ہے، جہاں داعش کے خلاف کارروائیوں کے لیے سرگرمیاں جاری رکھنے کا منصوبہ ہے۔

امریکی فوج کا عراق سے انخلا 2024 میں طے پانے والے معاہدے کے تحت مکمل کیا گیا، جس کے مطابق عراق میں داعش کے خلاف امریکی قیادت میں فوجی مشن کو مرحلہ وار ختم کرنا تھا۔ عراق سے امریکی فوجی موجودگی کا آغاز 2003 میں امریکی حملے کے بعد ہوا تھا۔

رپورٹس کے مطابق عراق میں موجود آخری امریکی فوجی اور فوجی سازوسامان ملک سے نکال کر اردن سمیت خطے کے دیگر مقامات پر منتقل کیا گیا۔ امریکی فوج نے عراق میں اپنے اڈوں سے انخلا کا عمل پہلے ہی مرحلہ وار شروع کردیا تھا، جبکہ شمالی عراق میں موجود باقی نفری بھی مقررہ وقت تک واپس بلا لی گئی۔

امریکی فوج کے انخلا کے بعد عراق میں سکیورٹی اور سیاسی صورتحال کے حوالے سے مختلف خدشات بھی سامنے آئے ہیں۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی فوجی موجودگی ختم ہونے سے ایرانی حمایت یافتہ گروہوں کے اثر و رسوخ میں اضافہ ہوسکتا ہے، جبکہ داعش کے دوبارہ سرگرم ہونے کے امکانات بھی زیر بحث ہیں۔ یہ خدشات تجزیہ کاروں اور حکام کی آراء پر مبنی ہیں، حتمی نتائج نہیں۔

عراق میں امریکی فوجی موجودگی کے 23 سالہ دور کا اختتام ایسے وقت میں ہوا ہے جب بغداد اپنی سکیورٹی ضروریات اور خودمختاری کے حوالے سے نئی حکمت عملی تشکیل دے رہا ہے۔