سانحہ پمز کا مقدمہ درج ہوگا یا نہیں؟عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راجہ آصف نے ریاض حنیف راہی ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کی
سانحہ پمز کا مقدمہ درج ہوگا یا نہیں؟عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا
اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس نے سانحہ پمز کے معاملے پر مقدمہ درج کرنے کی درخواست پر فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راجہ آصف نے ریاض حنیف راہی ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران پولیس نے مقدمہ درج کرنے کی درخواست خارج کرنے کی استدعا کی۔
درخواست گزار کے وکیل ریاض حنیف راہی نے مؤقف اختیار کیا کہ پمز کا واقعہ سب کے سامنے ہے اور اس میں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ وزیراعظم کی جانب سے کس قانون کے تحت انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی۔
وکیل نے مزید کہا کہ کابینہ کی منظوری کے بغیر بنائی گئی انکوائری کمیٹی کی قانونی حیثیت پر سوالات موجود ہیں۔ ان کے مطابق جاں بحق بچوں کے لواحقین کے لیے دیت کی رقم 50 لاکھ روپے جبکہ ایک نرس کو ایک کروڑ روپے انعام دیا گیا، جس سے معاملے میں حکومتی پالیسی کے تحت اقدامات کا تاثر ملتا ہے۔
سماعت کے دوران جج راجہ آصف نے استفسار کیا کہ کیا اسی معاملے پر کسی دوسری عدالت میں بھی درخواست دائر کی گئی ہے۔ اس پر ریاض حنیف راہی نے بتایا کہ مقدمہ درج کرنے سے متعلق کوئی دوسری درخواست نہیں، تاہم کارروائی کے حوالے سے 5 رٹ پٹیشنز دائر ہوچکی ہیں۔
جج نے درخواست گزار کے وکیل سے تمام رٹ پٹیشنز کے نمبر فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اس کے بعد درخواست پر حکم جاری کیا جائے گا۔
عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد سانحہ پمز کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔