چکوال میں کمسن بچی سے زیادتی اور ویڈیو بنانے والے ملزم کو 35 سال قید

عدالت نے جرمانے کی نصف رقم متاثرہ بچی کو ادا کرنے کا حکم بھی دیا

October 1, 2026 · قومی

ڈوہمن میں کمسن بچی سے زیادتی کے مقدمے میں عدالت نے ملزم کو سزا سنا دی، فائل فوٹو

چکوال کی عدالت نے ڈوہمن میں کمسن بچی سے مبینہ زیادتی اور اس کی ویڈیو بنانے کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے ملزم محمد ذبیح الحسن ولد محمد یعقوب کو مجموعی طور پر 35 سال قید بامشقت اور 20 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی۔

استغاثہ کے مطابق مدعیہ ساجدہ بیگم نے تھانہ ڈوہمن پولیس کو درخواست دی کہ اس کی پوتی، جو نویں جماعت کی طالبہ ہے، ٹیوشن پڑھ کر گھر واپس آ رہی تھی کہ راستے میں ملزم محمد ذبیح الحسن اسے مبینہ طور پر زبردستی پکڑ کر ایک دکان کے اندر لے گیا اور اس کے ساتھ نازیبا حرکات کیں۔

درخواست میں الزام عائد کیا گیا کہ ملزم نے بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کی اور اس کی ویڈیو بھی بنائی۔ تھانہ ڈوہمن پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کیا اور تفتیش مکمل کرنے کے بعد چالان عدالت میں پیش کر دیا۔

مقدمے کی سماعت ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج چکوال فرزانہ شہزاد خان کی عدالت میں ہوئی۔ عدالتی کارروائی کے دوران استغاثہ کی جانب سے پیش کیے گئے شواہد کا جائزہ لینے کے بعد عدالت نے ملزم محمد ذبیح الحسن کو جرم ثابت ہونے پر مختلف دفعات کے تحت سزائیں سنائیں۔

عدالت نے جنسی زیادتی کے جرم میں 14 سال قید بامشقت اور 10 لاکھ روپے جرمانہ، ویڈیو بنانے سے متعلق مقدمے میں 14 سال قید بامشقت اور 10 لاکھ روپے جرمانہ جبکہ دفعہ 364-A کے تحت مزید 7 سال قید بامشقت کی سزا سنائی۔

یوں عدالت کے فیصلے کے مطابق ملزم کو مجموعی طور پر 35 سال قید بامشقت اور 20 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی۔ عدالت نے فیصلے میں حکم دیا کہ جرمانے کی رقم میں سے نصف رقم متاثرہ بچی کو ادا کی جائے۔