آئی ایم ایف کی فیول ریلیف اسکیم میں توسیع کی مخالفت
گیس سیکٹر کے گردشی قرضے کے معاملے پر بھی دونوں فریقوں کے درمیان اختلاف موجود ہے
آئی ایم ایف کی فیول ریلیف اسکیم میں توسیع کی مخالفت
اسلام آباد: پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ کے درمیان فیول ریلیف اسکیم اور گیس سیکٹر کے گردشی قرضے سمیت توانائی کے شعبے سے متعلق بعض معاملات پر اختلاف برقرار ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے ایندھن پر عمومی سبسڈی کے بجائے مستحق افراد کو براہ راست اور محدود ریلیف دینے پر زور دیا ہے۔ تاہم حکومت نے موٹر سائیکلوں اور چھوٹی گاڑیوں کے لیے شروع کی گئی فیول ریلیف اسکیم کو مقررہ مدت سے پہلے ختم نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکومت نے ستمبر میں اس اسکیم کے لیے 75 ارب روپے کی منظوری دی تھی، جس کے تحت دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے مالکان کو ہفتہ وار جبکہ 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے صارفین کو مخصوص مقدار میں ایندھن پر مالی ریلیف فراہم کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کا مؤقف ہے کہ موجودہ فیول ریلیف اسکیم کو تین ماہ سے زیادہ جاری رکھنا مشکل ہوگا، جبکہ حکومت اور عالمی مالیاتی ادارے کے درمیان اسکیم کی لاگت اور مستقبل کی مدت پر بات چیت جاری ہے۔
دوسری جانب گیس سیکٹر کے گردشی قرضے کے معاملے پر بھی دونوں فریقوں کے درمیان اختلاف موجود ہے۔ گیس سیکٹر کا مجموعی گردشی قرضہ تقریباً 3.6 ٹریلین روپے تک پہنچ چکا ہے، جس میں اصل واجبات کے ساتھ سود اور تاخیر سے ادائیگی کے سرچارجز بھی شامل ہیں۔
حکومت نے گردشی قرضے کے حل کے لیے مختلف تجاویز آئی ایم ایف کے سامنے پیش کی ہیں، جن میں گیس کمپنیوں کے اضافی منافع اور دیگر مالی ذرائع سے واجبات کم کرنے کی تجاویز شامل ہیں۔ تاہم آئی ایم ایف کی جانب سے اس منصوبے کے بعض پہلوؤں پر تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔
دونوں فریقوں کے درمیان گیس سیکٹر میں اصلاحات، ہدفی سبسڈی اور گردشی قرضے کے انتظام سے متعلق مزید مذاکرات آئندہ دنوں میں متوقع ہیں۔ آئی ایم ایف نے گیس چوری میں کمی اور توانائی کے شعبے میں بعض اصلاحات کو سراہا ہے۔