سانحہ گل پلازہ، مقدمے میں قتل کی دفعہ شامل کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

گل پلازہ کا واقعہ بلدیہ فیکٹری سانحے سے مماثلت رکھتا ہے، اس لیے مقدمے میں قتل کی دفعہ شامل کی جائے اور متاثرہ دکانداروں کو مقدمے کا فریق بنایا جائے۔

October 2, 2026 · قومی
سانحہ گل پلازہ، مقدمے میں قتل کی دفعہ شامل کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

سانحہ گل پلازہ، مقدمے میں قتل کی دفعہ شامل کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

کراچی: سانحہ گل پلازہ سے متعلق مقدمے میں قتل کی دفعہ شامل کرنے کی درخواست پر عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔
جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں گل پلازہ کیس کی سماعت ہوئی، جہاں دکانداروں کی جانب سے مقدمے میں قتل کی دفعہ شامل کرنے اور انہیں کیس کا فریق بنانے سے متعلق درخواست پر وکلا نے اپنے دلائل پیش کیے۔
سماعت کے دوران مقدمے میں نامزد ملزمان تنویر پاستا، رمضان، امین، عمار، نعمت اللہ اور حذیفہ عدالت میں پیش ہوئے۔
دکانداروں کے وکیل عبدالقادر قادری نے دلائل دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ گل پلازہ کا واقعہ بلدیہ فیکٹری سانحے سے مماثلت رکھتا ہے، اس لیے مقدمے میں قتل کی دفعہ شامل کی جائے اور متاثرہ دکانداروں کو مقدمے کا فریق بنایا جائے۔
درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے جاوید میر ایڈووکیٹ نے کہا کہ دکانداروں کی درخواست قابل سماعت نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بلدیہ فیکٹری سانحے اور گل پلازہ کے واقعے میں نمایاں فرق ہے۔ وکیل صفائی کے مطابق بلدیہ فیکٹری کے واقعے میں فاسفورس کیمیکل کے استعمال کا معاملہ سامنے آیا تھا جبکہ گل پلازہ کا واقعہ حادثاتی نوعیت کا ہے۔
پراسیکیوٹر حسن بھٹی نے بھی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ بلدیہ فیکٹری کا سانحہ بھتے کی طلب کے بعد پیش آیا تھا، جس کے باعث اس مقدمے میں دہشت گردی کی دفعات شامل کی گئی تھیں۔
پراسیکیوٹر نے عدالت سے استدعا کی کہ دکانداروں کی جانب سے دائر درخواست قابل سماعت نہ ہونے کے باعث مسترد کی جائے۔
فریقین کے وکلا کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے قتل کی دفعہ شامل کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔