تحریک انصاف کا 4 اکتوبر کو لانگ مارچ کا اعلان، مذاکرات میں مؤقف سخت رکھنے کا فیصلہ

اہم پیش رفت، سیاسی کمیٹی نے منظوری دے دی، فنڈ ریزنگ مہم شروع۔

October 2, 2026 · قومی
تحریک انصاف کا 4 اکتوبر کو لانگ مارچ کا اعلان، مذاکرات میں مؤقف سخت رکھنے کا فیصلہ

تحریک انصاف کا 4 اکتوبر کو لانگ مارچ کا اعلان، مذاکرات میں مؤقف سخت رکھنے کا فیصلہ

پشاور اور اسلام آباد کی سیاسی فضائوں میں ہلچل کے دوران پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے 4 اکتوبر کو ملک گیر لانگ مارچ کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ سیاسی کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ لانگ مارچ کا آغاز وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی قیادت میں جنوبی اضلاع سے کیا جائے گا جو کہ مختلف مراحل طے کرتا ہوا اسلام آباد پہنچے گا۔

ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کی سینئر قیادت اور سیاسی کمیٹی نے اس احتجاجی مارچ کی حتمی منظوری دے دی ہے، جبکہ صوبائی حکومت کے خلاف کسی بھی ممکنہ وفاقی اقدام یا گورنر راج کی صورت میں گورنر ہاؤس کے باہر دھرنا دینے اور بھرپور عوامی مزاحمت کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ممکنہ حکومتی اقدامات کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے لیے ایک خصوصی قانونی ٹیم بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر کو واضح ہدایت کی ہے کہ حکومت کے ساتھ جاری مذاکرات کے دوران بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور ان کی اسپتال منتقلی کی بنیادی شرط سے کسی صورت پیچھے نہ ہٹا جائے۔ وزیراعلیٰ نے پشاور میں پارٹی سیکریٹریٹ کا دورہ کیا جہاں لانگ مارچ کے اخراجات کے لیے فنڈ ریزنگ مہم کا آغاز کیا گیا ہے اور کارکنان پرجوش انداز میں مالی تعاون فراہم کر رہے ہیں۔

دریں اثنا، قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی جانب سے اسپیکر کے چیمبر میں مذاکرات کے لیے جانے سے انکار کے بعد پی ٹی آئی نے حکومت اور پیپلز پارٹی سے مذاکرات کے لیے 6 رکنی نئے وفد کی تشکیل دی ہے۔ چیئرمین بیرسٹر گوہر کے مطابق پولیٹیکل اور کور کمیٹی کی توثیق سے بننے والے اس نئے وفد میں راجا ناصر عباس، اسد قیصر، سلمان اکرم راجا، عامر ڈوگر اور حلیم عادل شیخ شامل ہیں۔