بچوں کا نان نفقہ والدین معاف یا کم نہیں کر سکتے،لاہور ہائیکورٹ

والدین آپس میں سمجھوتہ کر سکتے ہیں، تاہم ایسا معاہدہ نہیں کر سکتے جس کے نتیجے میں بچے کا حق کم یا ختم ہوجائے۔

October 3, 2026 · قومی
بچوں کا نان نفقہ والدین معاف یا کم نہیں کر سکتے،لاہور ہائیکورٹ

بچوں کا نان نفقہ والدین معاف یا کم نہیں کر سکتے،لاہور ہائیکورٹ

لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے نابالغ بچی کی درخواست منظور کرتے ہوئے بچوں کے نان نفقہ کی رقم والدین کی باہمی رضامندی سے کم مقرر کرنے سے متعلق فیملی کورٹ اور ڈسٹرکٹ جج کے فیصلے کالعدم قرار دے دیے۔

جسٹس محمد عثمان غنی رشید چیمہ نے تحریری فیصلے میں قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان نفقہ والدین کا نہیں بلکہ خود بچے کا قانونی حق ہے۔ والدین آپس میں سمجھوتہ کر سکتے ہیں، تاہم ایسا معاہدہ نہیں کر سکتے جس کے نتیجے میں بچے کا حق کم یا ختم ہوجائے۔

مقدمے کے مطابق فیملی کورٹ نے 24 جنوری 2026 کو نابالغ بچی اور اس کے چھوٹے بھائی کے لیے ماہانہ 30،30 ہزار روپے نان نفقہ مقرر کیا تھا۔ یہ رقم بچوں کی والدہ کے رضامندی والے بیان کی بنیاد پر طے کی گئی تھی۔

بعد ازاں بچوں کی جانب سے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی گئی، تاہم ڈسٹرکٹ جج سرگودھا نے 26 مارچ 2026 کو اپیل مسترد کردی۔ جس کے بعد نابالغ بچی نے اپنی والدہ کے ذریعے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا۔

درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ فیملی کورٹ نے بچوں کی حقیقی ضروریات، والد کی مالی استطاعت اور ان کی فلاح و بہبود کا آزادانہ جائزہ لینے کے بجائے والدہ کے بیان کو بنیاد بنایا۔

لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ عدالت کی ذمہ داری صرف والدین کے درمیان ہونے والے سمجھوتے کی توثیق کرنا نہیں بلکہ بچے کے مفادات کا تحفظ بھی ہے۔ نان نفقہ مقرر کرتے وقت عدالت کو بچے کی ضروریات کے ساتھ والد کی مالی اور سماجی حیثیت کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔

عدالت نے مزید واضح کیا کہ نابالغ کی والدہ یا سرپرست بچے کے حق کی مالک نہیں بنتی، اس لیے وہ اپنی مرضی سے بچے کا نان نفقہ معاف یا کم نہیں کر سکتی۔ اگر سرپرست عدالت کی اجازت کے بغیر بچے کے مفاد کے خلاف کوئی سمجھوتہ کرے تو ایسا معاہدہ بچے کے خلاف قابلِ عمل نہیں ہوگا۔

لاہور ہائیکورٹ نے دونوں ماتحت عدالتوں کے فیصلے منسوخ کرتے ہوئے معاملہ دوبارہ فیملی کورٹ کو بھجوا دیا اور ہدایت کی کہ بچوں کا نان نفقہ نئے سرے سے مقرر کیا جائے، جس میں بچوں کی ضروریات، فلاح و بہبود اور والد کی مالی استطاعت کو مدنظر رکھا جائے۔