اقوام متحدہ میں پاکستان کا بھارت کو دوٹوک جواب
جموں و کشمیر کو بھارت کا داخلی معاملہ قرار نہیں دیا جاسکتا بلکہ پاکستان کے مطابق یہ ایک بین الاقوامی تنازع ہے،پاکستانی نمائندہ
اقوام متحدہ میں پاکستان کا بھارت کو دوٹوک جواب
اقوام متحدہ: جنرل اسمبلی کی تیسری کمیٹی میں بھارتی نمائندے کے بیان پر پاکستان نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے جموں و کشمیر کے معاملے پر اپنا مؤقف واضح کردیا۔
پاکستانی نمائندے نے کہا کہ جموں و کشمیر کو بھارت کا داخلی معاملہ قرار نہیں دیا جاسکتا بلکہ پاکستان کے مطابق یہ ایک بین الاقوامی تنازع ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کے حقِ خودارادیت سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں موجود ہیں۔ اقوام متحدہ کے حالیہ ریکارڈ میں بھی پاکستان کے نمائندے نے جموں و کشمیر کو سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود دیرینہ تنازع قرار دیا ہے۔
پاکستانی مؤقف کے مطابق بھارت سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد سے انکار کرکے اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں سے گریز کررہا ہے۔ پاکستان نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک اور تشدد کے واقعات جاری ہیں۔
Right of Reply by First Secretary Sarfaraz Ahmed Gohar,
In Response to Remarks of Indian Representative
During General Debate of Third Committee of UNGA81
(2nd October 2026)*
*********Madam Chair,
I have requested the floor to exercise my delegation’s Right of Reply in… pic.twitter.com/7Usq0PKbcr
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) October 3, 2026
پاکستانی نمائندے نے بھارت پر پاکستان کے خلاف دہشت گرد گروہوں کی معاونت اور مالی سرپرستی کے الزامات بھی عائد کیے۔ تاہم یہ الزامات پاکستان کا مؤقف ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان مذاکرات، سفارت کاری اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے پرعزم ہے۔ پاکستان کی جانب سے جموں و کشمیر کو متنازع معاملہ قرار دینے کا مؤقف اقوام متحدہ کے فورمز پر پہلے بھی پیش کیا جاتا رہا ہے۔