دھرنے اور لانگ مارچ اسلام آباد سے دور رکھنے کا فیصلہ ہوا، رانا ثنا اللہ
اگر پی ٹی آئی اپنے مطالبات کے لیے احتجاج کرنا چاہتی ہے تو پشاور یا مردان میں کرے
دھرنے اور لانگ مارچ اسلام آباد سے دور رکھنے کا فیصلہ ہوا، رانا ثنا اللہ
اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ سیاسی اور عسکری قیادت نے یہ طے کیا ہے کہ دھرنے اور لانگ مارچ اسلام آباد سے دور ہونے چاہئیں۔ ان کا یہ بیان موجودہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان چار اکتوبر کے مجوزہ مارچ پر جاری مذاکرات کے تناظر میں سامنے آیا ہے
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی اپنے مطالبات کے لیے احتجاج کرنا چاہتی ہے تو پشاور یا مردان میں کرے، جبکہ دیگر سیاسی جماعتیں بھی اپنے مسائل کے لیے لاہور، کراچی یا دیگر شہروں میں احتجاج کرسکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات سے مقتدرہ کے خوش یا ناخوش ہونے کی بات درست نہیں، کیونکہ مذاکرات سیاسی قیادت کی جانب سے کیے جا رہے ہیں۔ رانا ثنا اللہ کے مطابق صدر اور وزیراعظم نے مذاکرات کے لیے کمیٹی تشکیل دی ہے، اس لیے متعلقہ حلقوں کو اعتماد میں لیا گیا ہوگا۔
رانا ثنا اللہ نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے وفاقی حکومت کے ساتھ بات چیت کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر صوبائی حکومت کا کوئی مؤقف ہے تو اسے وفاق کے سامنے پیش کرنا چاہیے۔
گورنر راج اور ایمرجنسی کے ممکنہ استعمال سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ یہ آئینی آپشنز موجود ہیں، تاہم ان کا استعمال ناگزیر حالات میں ہی کیا جائے گا۔ انہوں نے گورنر راج یا ایمرجنسی کو ناپسندیدہ اقدام قرار دیا۔
واضح رہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان چار اکتوبر کے مجوزہ مارچ سمیت دیگر سیاسی معاملات پر مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔ پہلے دور میں فریقین کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے اور مزید بات چیت پر اتفاق کیا گیا تھا۔