حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کامیاب، مشترکہ اعلامیہ تیار
پی ٹی آئی پہلے مارچ کال آف کرے ۔۔ حکومت کی شرط
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کامیاب، مشترکہ اعلامیہ تیار
اسلام آباد میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری مذاکرات کا دوسرا دور کامیاب ہوگیا ہے جس کے بعد ایک مشترکہ اعلامیے اور تحریری معاہدے کا ڈرافٹ تیار کیا جا رہا ہے۔ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی میزبانی اور صدارت میں ہونے والے ان مذاکرات میں مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی اور اپوزیشن کے وفود نے بھرپور شرکت کی۔ اجلاس کے دوران ابتدائی طور پر دونوں فریقین کے درمیان گلے شکوؤں کا تبادلہ بھی ہوا، جہاں حکومتی وفد نے سوشل میڈیا بیانات اور لانگ مارچ کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات کے دوران وفاقی وزیر امیر مقام نے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے کل اپوزیشن سے آگے بڑھنے کے لیے لانگ مارچ منسوخ کرنے کی بات کی تھی، مگر اس کے باوجود بعض رہنماؤں کی جانب سے بیانات سامنے آئے۔ حکومتی وفد کا یہ بھی مؤقف تھا کہ سینیئر حکومتی اکابرین کے خلاف نامناسب زبان استعمال کی گئی جس سے اعتماد کے فقدان کا تاثر ابھرا۔ دوسری جانب اپوزیشن ارکان نے وزیرِ دفاع خواجہ آصف کے ٹویٹ کا معاملہ اٹھاتے ہوئے سوال کیا کہ کیا وہ درست ہے؟ اگر مذاکرات کو آگے بڑھانا ہے تو باہمی اعتماد کی بحالی ناگزیر ہے۔
پیپلز پارٹی کی سینیئر رہنما سینیٹر شیری رحمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہماری پوری کوشش ہے کہ تمام معاملات کا جمہوری انداز میں حل نکالا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے مذاکرات کی تجویز پیش کی تھی اور امید ہے کہ اس سے مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔ دریں اثنا، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے لانگ مارچ کی منسوخی کو بانی چیئرمین سے ملاقات اور بعض شرائط سے مشروط کیا، جبکہ حکومتی کمیٹی نے زور دیا کہ دہشت گردی کی حالیہ لہر کے تناظر میں مارچ کو ختم کیا جائے۔ فریقین نے تمام امور پر تفصیلی مشاورت کے بعد مشترکہ لائحہ عمل طے کرنے پر اتفاق کیا ہے۔