حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات بغیر نتیجہ ختم،لانگ مارچ پر ڈیڈ لاک برقرار

عمران خان سے ملاقات اور ذاتی معالج تک رسائی کا معاملہ حل نہ ہوسکا

October 4, 2026 · قومی

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری مذاکرات کسی نتیجے کے بغیر ختم ہوگئے، جبکہ فریقین کے درمیان اہم معاملات پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔ ذرائع کے مطابق مذاکراتی کمیٹی کے ارکان اسپیکر چیمبر سے روانہ ہوگئے۔

حکومتی وفد سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر اور حکومتی مذاکراتی وفد کے رکن رانا ثنا اللہ نے کہا کہ صوبائی حکومت دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کردار ادا کرنے کو تیار نہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ صوبائی حکومت دہشتگردی کے حوالے سے اپنی آئینی ذمہ داری ادا کرے اور کہا کہ صوبائی حکومت دہشتگردی کے خلاف اپنے کردار کی یقین دہانی کرانے سے انکاری رہی۔
رانا ثنا اللہ نے واضح کیا کہ لانگ مارچ کو اسلام آباد کی حدود میں داخل ہونے نہیں دیا جائے گا اور کسی بھی قسم کے انتشار کو قانون کی طاقت سے روکا جائے گا۔
حکومتی مذاکراتی کمیٹی کی رکن شیری رحمان نے کہا کہ حکومت نے اپوزیشن کے خدشات سنے ہیں اور مذاکرات کے دوران ڈرافٹ چار مرتبہ تبدیل کیا گیا۔ ان کے مطابق دہشتگردی کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا، جبکہ اپوزیشن نے لانگ مارچ اور دیگر معاملات سے متعلق معاہدے سے انکار کیا۔
دوسری جانب اپوزیشن وفد میں شامل بیرسٹر گوہر نے کہا کہ مذاکرات کا سیشن ختم ہوگیا ہے اور مذاکرات میں ڈیڈ لاک پیدا ہوگیا۔ فریقین نے اگلے روز کسی سیشن کی ضرورت پر اتفاق نہیں کیا، تاہم ایک دوسرے کے ساتھ کچھ چیزوں کا تبادلہ کیا جائے گا اور ضرورت پڑنے پر دوبارہ سیشن ہوسکتا ہے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اپوزیشن چاہتی تھی کہ مذاکرات کامیاب ہوں، تاہم لانگ مارچ برقرار ہے اور یہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ کی آڑ میں ایسا کوئی اقدام نہیں ہونا چاہیے جس سے صوبے کے عوام میں تناؤ پیدا ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ ان کا حق ہے اور سب سے مطالبہ ہے کہ اسے نہ روکا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کسی چیز کو آخری نہیں کہنا چاہیے کیونکہ سیاست میں کوئی چیز آخری نہیں ہوتی۔ ان کے مطابق لانگ مارچ کا جواب ایمرجنسی یا گورنر راج نہیں، جبکہ فریقین کے درمیان مذاکرات کے اگلے مرحلے پر اتفاق نہیں ہوسکا۔
اپوزیشن وفد میں شامل علامہ راجہ ناصر عباس نے بتایا کہ ڈیڈ لاک برقرار ہے۔ ان کے مطابق معاملات چھوٹے چھوٹے تھے لیکن مذاکرات کسی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے۔
علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کا معاملہ حل نہیں ہوسکا اور خان صاحب کے ذاتی معالج تک رسائی کے معاملے پر بھی ڈیڈ لاک برقرار ہے۔ ان کے مطابق کوشش تھی کہ کسی نتیجے پر پہنچا جائے، تاہم ایسا نہیں ہوسکا۔
انہوں نے بتایا کہ دہشتگردی کے معاملے پر نیشنل ایکشن پلان سے متعلق تحفظات تھے، جبکہ ان علاقوں میں آپریشن کے حوالے سے بھی تحفظات موجود تھے جہاں آئی ڈی پیز موجود ہیں۔
علامہ راجہ ناصر عباس کے مطابق مذاکرات کے بعد حکومتی وفد نے کہا کہ اس وقت وہ عمران خان سے ملاقات کروانے کی پوزیشن میں نہیں، تاہم بہنوں اور وکلا کی ملاقات شروع ہوجائے گی۔
اپوزیشن رہنما سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ بنیادی معاملات پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا۔ ان کے مطابق اپوزیشن کا خیال تھا کہ دونوں فریق ایسے نکات پر آگے بڑھ سکیں گے جن پر اتفاق رائے ہوسکتا تھا۔