عالمی یوم معلم۔معیاری تعلیم اور اساتذہ کے حقوق کا عزم

اہم پیش رفت، پیرس میں عالمی تقریب، معاشی تحفظ اور جدید تربیت ناگزیر۔

October 5, 2026 · قومی
اساتذہ کے عالمی دن کے موقع پر تقریب اور تعلیمی نشست کا منظر

اساتذہ کے عالمی دن کے موقع پر تقریب اور تعلیمی نشست کا منظر

 

دنیا بھر میں اساتذہ کے مقام، حقوق اور مسائل پر توجہ دلانے کے لیے ہر سال 5 اکتوبر کو عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اساتذہ کا عالمی دن محض ایک رسمی دن نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے ایک طویل تاریخی جدوجہد اور بین الاقوامی تعلیمی سوچ موجود ہے۔

5 اکتوبر 1966ء کو پیرس میں منعقدہ خصوصی بین الحکومتی کانفرنس میں عالمی ادارۂ محنت اور یونیسکو نے اساتذہ کی حیثیت سے متعلق اہم سفارش منظور کی تھی۔ اس تاریخی سفارش کا مقصد دنیا بھر میں اساتذہ کے پیشے کو باقاعدہ حیثیت، مناسب شرائط اور ضروری تحفظ فراہم کرنا تھا۔

وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے اساتذہ کے عالمی دن پر اپنے خصوصی پیغام میں معلم اعظم حضرت محمدؐ پر درود و سلام پیش کرتے ہوئے قابل احترام اساتذہ کو شاندار خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ اچھا استاد معاشرے میں مثبت تبدیلیوں کی بنیاد رکھ سکتا ہے اور حکومت معیاری تعلیم کے فروغ کے لیے صوبہ بھر میں نوازشریف سکول آف ایمیننس جیسے پروگرام متعارف کرا رہی ہے۔ پرائمری ایجوکیشن کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال بھی لایا جا رہا ہے۔ اساتذہ کو انگلش بول چال اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی مفت تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔

یونیسف کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 5 سے 16 سال کی عمر کے تقریباً 25.1 ملین بچے اسکول سے باہر ہیں ۔ سندھ میں یہ تعداد تقریباً 7.4 ملین ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف اسکولوں کی تعداد بڑھانا کافی نہیں بلکہ اسکولوں میں قابل، تربیت یافتہ اور بااختیار اساتذہ کی موجودگی بھی لازمی ہے۔ اساتذہ کو درپیش چیلنجز میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، موسمیاتی تبدیلی اور تدریسی وسائل کی کمی جیسے امور شامل ہیں، جن کے حل کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔