میر رضا کیس، پولیس افسران نے جوابات جمع کرا دیے
گر تحقیقاتی ادارے کیس سے متعلق بعض معلومات متاثرہ خاندان کو فراہم کریں تو اس سے تحقیقات کو لازماً نقصان نہیں پہنچتا۔کمیشن
میر رضا کیس، پولیس افسران نے جوابات جمع کرا دیے
میر رضا کیس: سینئر پولیس افسران نے جوڈیشل کمیشن کے سوالات کے جواب جمع کرا دیے
کراچی میں قتل ہونے والے نوجوان تاجر میر رضا کے کیس میں سینئر پولیس افسران نے جوڈیشل کمیشن کی جانب سے بھیجے گئے سوالات کے جوابات جمع کرا دیے۔
ایڈیشنل آئی جی کراچی، ڈی آئی جی عامر فاروقی اور ڈی آئی جی فرخ لنجار کی جانب سے سوالات کے جوابات دیے گئے، جنہیں کمیشن کے معاون تجمل لودھی ایڈووکیٹ نے سیل بند لفافوں کی صورت میں کمیشن میں جمع کرایا۔
میر رضا کے اہلخانہ نے بھی پولیس افسران سے متعلق سوالات کمیشن کو بھجوائے تھے۔ اہلخانہ کی جانب سے 300 سے زائد سوالات جمع کرائے گئے۔
کمیشن کا کہنا ہے کہ اگر تحقیقاتی ادارے کیس سے متعلق بعض معلومات متاثرہ خاندان کو فراہم کریں تو اس سے تحقیقات کو لازماً نقصان نہیں پہنچتا۔
میر رضا کے اہلخانہ کے وکیل جبران ناصر نے مؤقف اختیار کیا کہ 9 ستمبر کو پولیس نے خاندان کو بتایا تھا کہ ڈیجیٹل کرنسی سے متعلق ڈیٹا حاصل کرلیا گیا ہے، جبکہ اسی روز کرپٹو اکاؤنٹ کے اسکرین شاٹس بھی میڈیا پر سامنے آگئے تھے۔
جبران ناصر نے سوال اٹھایا کہ پولیس حکام اپنی ٹیم میں میر رضا سے متعلق معلومات میڈیا تک پہنچانے والے شخص کا سراغ کیوں نہیں لگا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ کیا تین سے چار کروڑ روپے کے لیے ایسا کیا جاسکتا ہے؟
جوڈیشل کمیشن نے کیس کی مزید سماعت 7 اکتوبر تک ملتوی کردی۔