صدر مملکت آصف علی زرداری نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو نشان امتیاز سے نواز دیا
انتونیو گوتریس نے اسلام آباد میں مختلف شخصیات سے ملاقاتیں کیں
فوٹو اسکرین گریپ
صدر مملکت آصف علی زرداری نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کو عالمی امن، ترقی اور اقوام متحدہ کی قیادت کے لیے ان کی خدمات کے اعتراف میں ملک کے اعلیٰ ترین سول اعزاز نشانِ امتیاز سے نواز دیا۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس منگل کی صبح اسلام آباد پہنچے اور مختلف شخصیات سے ملاقاتیں کیں، جبکہ انہیں نشانِ امتیاز دینے کی تقریب ایوان صدر میں منعقد ہوئی۔
تقریب میں وزیراعظم محمد شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، وفاقی وزراء، ارکان پارلیمنٹ اور سفارتی کور کے ارکان نے شرکت کی۔
انتونیو گوتریس پاکستان کی جانب سے نشانِ امتیاز حاصل کرنے والے پہلے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل ہیں۔
صدر آصف علی زرداری نے ملاقات کے دوران اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی عالمی امن، مذاکرات، سفارت کاری اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے کوششوں کو سراہا۔
صدر مملکت نے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ فلسطین کا حل دو ریاستی حل اور متعلقہ اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد میں ہے۔
صدر مملکت نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد اور پاکستان بھارت مذاکرات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے سندھ طاس معاہدے کو پابند بین الاقوامی معاہدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے یکطرفہ طور پر معطل نہیں کیا جا سکتا، پانی کو سیاسی دباؤ یا ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
صدر نے افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں اور عالمی تعاون کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
صدر زرداری نے بتایا کہ دو لاکھ 70 ہزار سے زائد پاکستانی امن دستے 48 اقوام متحدہ کے مشنز میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔
موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے صدر نے کہا کہ پاکستان جیسے موسمیاتی خطرات سے دوچار ترقی پذیر ممالک کے لیے موسمیاتی تبدیلی وجودی چیلنج ہے، عالمی برادری کو ماحولیاتی تحفظ، موافقت اور موسمیاتی مالی معاونت کے لیے مزید اقدامات کرنا ہوں گے۔